عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی شرحِ نمو مالی سال 2026 میں 3 فیصد رہنے کی توقع ہے، جبکہ مہنگائی میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ ”پاکستان ڈویلپمنٹ اپڈیٹ: ترقی اور ملازمتوں کے لیے کورس کو برقرار رکھنا“ کے عنوان سے جاری تازہ رپورٹ کے مطابق، حالیہ تباہ کن سیلاب نے ترقی کے امکانات کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے مالی دباؤ اور معاشی استحکام کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ سیلاب سے زرعی پیداوار اور غریب دیہی گھرانے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ چاول، کپاس، گنے اور مکئی کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ ٹیکسٹائل صنعت کو خام مال کی قلت کا سامنا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق، مالی سال 2026 میں افراطِ زر 7.2 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے جو بعد ازاں 2027 میں 6.8 فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت اگر محتاط مالیاتی پالیسی برقرار رکھے اور بجٹ سے ہٹ کر وعدوں سے گریز کرے تو آئی ایم ایف پروگرام کی تسلسل سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہے گا۔ تاہم، سیلاب سے متعلق بحالی اور امدادی سرگرمیوں کے باعث مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 5.4 فیصد تک بلند رہنے کی توقع ہے۔
عالمی بینک نے خبردار کیا کہ غربت میں کمی کی رفتار سست پڑنے کا خدشہ ہے، مالی سال 2026 میں غربت کی شرح 21.5 فیصد اور مالی سال 2027 میں 20.6 فیصد تک رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
عالمی بینک نے مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے ساتھ ٹیکس اصلاحات، بجٹ کے استحکام اور ریاستی اداروں کی نجکاری پر زور دیا ہے۔ رپورٹ میں تجویز کیا گیا کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، جی ایس ٹی آن سروسز کے واحد پورٹل کے مکمل نفاذ اور نان ڈیجیٹائزڈ زمینوں کے ریکارڈ میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ آمدنی کے ذرائع بہتر کیے جا سکیں۔
رپورٹ میں اسٹیٹ بینک سے کہا گیا کہ شرح مبادلہ میں مصنوعی استحکام کے بجائے مارکیٹ بیسڈ نظام اپنایا جائے تاکہ اعتماد بحال ہو۔
عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولرما امگابازار نے کہا کہ پاکستان کے حالیہ سیلاب نے انسانی اور معاشی نقصانات میں اضافہ کیا ہے۔ اصلاحات پر عملدرآمد اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہی معاشی بحالی اور پائیدار ترقی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مرکزی مصنف مختار الحسن نے کہا کہ سیلاب کے اثرات کو سنبھالنے کے لیے متوازن مالیاتی اقدامات ناگزیر ہیں، جن میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، ریاستی اداروں کی تنظیمِ نو اور مالی نظم و ضبط شامل ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.