BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)

چین اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان نے منگل کو اپنے آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کو اپ گریڈ کرنے کا معاہدہ کر لیا، جس میں ڈیجیٹل اور گرین اکانومی سمیت نئی صنعتوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ دونوں فریقوں نے اسے خطے میں تجارت و سرمایہ کاری کے نئے دور کا آغاز قرار دیا۔

آسیان کے اعدادوشمار کے مطابق، چین اور 11 رکنی تنظیم کے درمیان دوطرفہ تجارت گزشتہ سال 771 ارب ڈالر تک پہنچی، جس سے چین آسیان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا۔ چین، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد بھاری درآمدی ٹیرف کا سامنا ہے، خطے کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو مزید گہرا کرنا چاہتا ہے۔

چینی وزیرِاعظم لی چیانگ نے آسیان اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ہمیں تجارت و سرمایہ کاری کی آزادی اور سہولت کاری میں تیزی لانی ہوگی اور صنعتی انضمام کو مضبوط کرنا ہوگا۔

اس معاہدے کا نیا ورژن ایف ٹی اے 3.0 منگل کو ملائیشیا میں ہونے والے آسیان سربراہی اجلاس میں دستخط کے ساتھ مؤثر ہوا۔ یہ مذاکرات نومبر 2022 میں شروع ہوئے اور رواں سال مئی میں مکمل ہوئے۔

سنگاپور کے وزیرِاعظم لارنس وونگ کے مطابق، نیا معاہدہ تجارتی رکاوٹوں میں مزید کمی، سپلائی چین کے روابط میں بہتری اور نئے شعبوں میں ترقی کے مواقع فراہم کرے گا۔ چین نے کہا کہ اپ گریڈ شدہ معاہدہ زراعت، ڈیجیٹل معیشت اور دواسازی جیسے شعبوں میں مارکیٹ تک بہتر رسائی کا راستہ ہموار کرے گا۔

چین اور آسیان دونوں ریجنل کمپری ہینسو اکنامک پارٹنرشپ (آر سی ای پی) کا حصہ ہیں، جو دنیا کا سب سے بڑا تجارتی بلاک ہے، جس میں عالمی آبادی کا تقریباً ایک تہائی اور عالمی جی ڈی پی کا 30 فیصد شامل ہے۔

تاہم، جنوبی بحیرہ چین میں کشیدگی اب بھی خطے میں چین کے کردار کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے چینی جارحیت پر تنقید کی، جس کے جواب میں بیجنگ نے کہا کہ تنازعات کی وجہ منیلا کی اشتعال انگیز کارروائیاں ہیں۔

چینی وزیرِاعظم نے زور دیا کہ ہمیں باہمی اعتماد کو مضبوط کرنا ہوگا اور جنوبی بحیرہ چین کے ضابطہ اخلاق پر جلد اتفاق رائے حاصل کرنا ہوگا۔

Comments

Comments are closed.