ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نیشنل الیکٹرک اینڈ پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے حالیہ فیصلے کے بعد کراچی کی صنعتوں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار پر مالی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
رواں ہفتے کے آغاز پر نیپرا نے ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن، سپلائی اور جنریشن سمیت متعدد فیصلوں کے تحت کے-الیکٹرک کے 2024-2030 کے لیے ملٹی ایئر ٹیرف کو 39.97 روپے سے کم کر کے 32.37 روپے فی یونٹ کر دیا جسے تجزیہ کاروں نے ملک کے سب سے بڑے شہر کو بجلی فراہم کرنے والی اس پاور یوٹیلٹی کے لیے بھاری مالی نقصان کا سبب قرار دیا۔
تجزیہ کاروں کی متعدد رپورٹس اور صنعتی ایسوسی ایشنز کے بیانات سامنے آئے ہیں جس میں بتایا گیا کہ صارفین کو مالی سال 2024 میں استعمال شدہ بجلی کے لیے تقریباً 1.6 روپے اضافی چارج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پی ایچ ایل سرچارج کے علاوہ جو کراچی کے صارفین پہلے ہی ادا کر رہے ہیں (یہ فیس بجلی کے بلوں پر عائد کی جاتی ہے تاکہ بجلی کے شعبے کے بڑھتے ہوئے سرکولر قرض کو منظم کیا جا سکے)، کئی ماہرین نے اس اقدام کو ناانصافی قرار دیا۔
اسی نوعیت کے خیالات ہفتہ (25 اکتوبر) کو پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف مارکیٹ اکنامی (پرائم) کی جانب سے منعقدہ ویبی نار کراچی کی توانائی کی سلامتی: چیلنجز اور مواقع میں بھی سامنے آئے۔ سیشن کی صدارت چیف ڈیولپمنٹ آفیسر پرائم علی احسن نے کی۔
کے الیکٹرک (کے ای) کے سی ای او مونس علوی نے کہا کہ ملٹی-ایئر ٹیرف (MYT) کو کے ای کی زمینی حقیقتوں کی عکاسی کرنی چاہیے کیونکہ یہ ایک پیچیدہ شہری ماحول میں بجلی فراہم کرتی ہے۔ ان کے یہ ریمارکس کراچی کی طرف ہونے والی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے حوالے سے تھے، جس کے نتیجے میں کچی آبادیاں اور قانون نافذ کرنے کی خراب صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
ان چیلنجز کے باوجود سی ای او نے بتایا کہ کے ای مجموعی تکنیکی اور تجارتی نقصانات کو تقریباً 45 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد سے نیچے لے آ یا ہے۔
مونس علوی نے پرامید رہتے ہوئے کہا کہ یہ مسائل نیپرا اور حکومت کے ساتھ تعمیری مشاورت کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ کے ای کی پیداوار لاگت کم ہے اور کمپنی قومی گرڈ اور ایکس ڈبلیو ڈسکوز (سابقہ وابڈا ڈسٹری بیوشن کمپنیاں) کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہے۔
پینلسٹ میں سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) شبر زیدی نے کے الیکٹرک کے ملٹی ائیر ٹیرف سے متعلق نیپرا کے فیصلے کو مالی طور پر ناقابلِ عمل قرار دیتے ہوئے پیش گوئی کی ہے کہ دو سال میں کےالیکٹرک دیوالیہ ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کے ای کا موجودہ 4 ارب روپے کا منافع ٹیرف میں کمی کی وجہ سے 81 ملین روپے کے نقصان میں بدل سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے نظام کے تحت کوئی بھی ڈسکو نجکاری کے قابل نہیں ہو سکتی۔
تاہم مونس علوی پرامید رہے اور کہا کہ کے ای نئے ٹیرف ڈھانچے کے بعض چیلنجز کے باوجود کراچی کو خدمات فراہم کرتی رہے گی۔
ادھر صنعتی شراکت داروں کی نمائندگی کرتے ہوئے ہارون شمسی نے توانائی کی پالیسی سازی میں حکومتی عارضی اقدامات پر تنقید کی۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ کراچی کی صنعتیں پہلے ہی ہائی کیپسٹی کے بوجھ تلے ہیں، جو اب ماضی کے فیول چارج ایڈجسٹمنٹس اور 3.23 روپے فی یونٹ پی ایچ ایل سرچارج سے مزید بڑھ گیا ہے، حالانکہ شہر سرکولر قرض سے مستثنیٰ ہے۔
صنعتیں پہلے ہی اپنے مالیاتی حسابات بند کر چکی ہیں اور ٹیکس ریٹرنز جمع کروا چکی ہیں۔ کیا ہم سب کو واپس جا کر سب کچھ دوبارہ جمع کروانا ہوگا؟“
شمسی نے خبردار کیا کہ سب سے زیادہ نقصان ایس ایم ایز کو پہنچے گا کیونکہ بڑی صنعتیں اپنے کیپٹو پاور پلانٹس قائم کرسکتی ہیں جبکہ چھوٹے پلیئر اس صلاحیت سے محروم ہیں۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ آیا کے ای مالی دباؤ کے تحت سروس لیول برقرار رکھ سکتی ہے جس سے زیادہ طویل بجلی کی بندشیں اور خرابیوں کی سست مرمت متوقع ہو سکتی ہے۔
توانائی شعبے کے ماہر ذیشان علی نے توانائی سیکورٹی کے تکنیکی پہلو کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کے ای کے سرمایہ کاری کے منصوبوں کو روک دیا جائے تو یہ جدیدیت اور گرڈ کی بہتری کو روک دے گا۔ یہ صرف ٹیرف کا مسئلہ نہیں بلکہ کراچی کی مستقبل کی بجلی کی دستیابی کے لیے ایک خطرہ ہے۔
صنعت کار اور توانائی شعبے کے ماہر ریحان جاوید نے نیپرا کے اپنے ہی فیصلے کو واپس لینے کو ناقابل فہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کے بعد ایک مشترکہ فیصلے پر پہنچنے میں ڈھائی سال لگے اور نئے ثبوت کے بغیر اسے کالعدم کرنے میں صرف دو ماہ لگے۔
پینلسٹ نے اجتماعی طور پر بجلی کے شعبے میں فوری ساختی اصلاحات کے نفاذ کا مطالبہ کیا تاکہ پائیداری اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی فیصلہ سازی کو پائیداری اور مسابقت کو ترجیح دینی چاہیے، اور اس بات پر زور دیا کہ ٹیرف مقرر کرنے کا اختیار مارکیٹ کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ حکومت کے اثر و رسوخ میں ریگولیٹر کے کنٹرول میں۔ یونیفارم ٹیرف کے نظام کو ختم کرنے کی بھی ضرورت پر زور دیا گیا کیونکہ یہ مارکیٹ سگنلز کو مسخ کرتا ہے اور مؤثر یوٹیلٹیز کو نقصان پہنچاتا ہے۔


Comments
Comments are closed.