امریکی فیڈرل ریزرو سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ بدھ کے روز رواں سال کی دوسری بار شرحِ سود میں کمی کا اعلان کرے گا، حالانکہ سرکاری ڈیٹا کی کمی کے باعث امریکی معیشت کی اصل صورتحال ابہام کا شکار ہے، کیونکہ حکومت کے جزوی شٹ ڈاؤن نے بیشتر اقتصادی اعدادوشمار کی اشاعت روک دی ہے۔
امریکی مرکزی بینک کا یہ سال کا دوسرا آخری اجلاس ہے جو ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان ہیلتھ کیئر سبسڈیز پر کئی ہفتوں سے جاری تعطل کے پس منظر میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس سیاسی جمود کے باعث سرکاری ادارے معیشت سے متعلق اہم اشارے جاری کرنے سے قاصر ہیں، جس کے نتیجے میں فیڈ کے پالیسی سازوں کو شرحِ سود سے متعلق فیصلہ ادھورے اعداد و شمار کی بنیاد پر کرنا پڑے گا۔
معاشی تجزیہ کاروں اور منڈی کے مبصرین کا اندازہ ہے کہ فیڈرل ریزرو ایک چوتھائی فیصد پوائنٹ کی کمی کرے گا، جس سے پالیسی ریٹ 3.75 فیصد سے 4.00 فیصد کے درمیان آجائے گا۔ تاہم امکان ہے کہ بینک دسمبر میں متوقع آخری کمی کے بارے میں واضح اشارہ نہیں دے گا۔
شرحِ سود میں ممکنہ کمی پر فیڈ کے اندرونی مباحثے بھی پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ کچھ ارکان فوری کٹوتی کے حامی ہیں تاکہ کمزور ہوتی لیبر مارکیٹ کو سہارا دیا جا سکے، جبکہ دوسرے افراطِ زر کو روکنے کے لیے شرحوں کو مستحکم رکھنے کے حق میں ہیں۔ افراطِ زر اب بھی فیڈ کے طویل المدتی 2 فیصد ہدف سے کہیں زیادہ ہے، جس کی ایک بڑی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بڑے تجارتی شراکت داروں پر عائد کردہ محصولات ہیں۔


Comments
Comments are closed.