فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کی قائم کردہ کمیٹی کے اجلاس میں کاروبار کرنے میں سہولت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے متعلق مسائل کے حل کے لیے زیرِ غور عملی اقدامات کو سراہا ہے۔
ایس آئی ایف سی کے زیر اہتمام ہونے والا یہ اجلاس پاکستان کی کاروباری برادری کے لیے ٹیکس نظام کو آسان بنانے اور سرمایہ کار دوست ماحول کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
قائم مقام صدرایف پی سی سی آئی، ثاقب فیاض مگوں نے نجی شعبے کے وفد کی قیادت کی جس میں پاکستان کے مختلف شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد، کوئٹہ، سرحد، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، گجرات اور ہری پور چیمبرز آف کامرس اور انڈسٹری کے نمائندے شامل تھے۔
حکومت کی جانب سے وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے اجلاس کی صدارت کی جبکہ ایس آئی ایف سی، ایف بی آر اور وزارتِ صنعت وتجارت، پٹرولیم اور توانائی کے سینئر حکام بھی شریک ہوئے، یہ بین الوزارتی و نجی شعبے کا اجلاس سرکاری و کاروباری رہنماؤں کے درمیان جاری مشاورت کا تسلسل تھا جس کا مقصد کاروبار میں آسانی کے لیے عملی حل تلاش کرنا تھا۔
شرکاء نے ایس آئی ایف سی کے کلیدی کردار کو سراہا جو کہ پالیسی اصلاحات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
قائم مقام صدرایف پی سی سی آئی، ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ہم حکومت کے مشاورتی عمل کے عزم کو سراہتے ہیں جیسا کہ اس اجلاس سے ظاہر ہو اہے۔
وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کی قیادت میں ایف بی آر سے متعلق دیرینہ مسائل کے حل میں واضح پیش رفت ہوئی ہےجن میں ای-انوائسنگ کا مرحلہ وار نفاذ، سیلز ٹیکس ایکٹ کی شق 8B اور 40B کے تحت ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی وضاحتیں اور سیلز ٹیکس و انکم ٹیکس کی تعمیل کے لیے آسان طریقہ کار شامل ہیں
یہ تمام اقدامات ایف پی سی سی آئی کے اس موقف سے ہم آہنگ ہیں کہ کاروباری ترقی کو سخت اقدامات کے بجائے مشاورت کے ذریعے فروغ دیا جائے ۔
اجلاس میں حالیہ مالیاتی سال 2025-26 کے بجٹ سے کچھ سخت دفعات کی واپسی کو بھی سراہا گیا جن میں سیلز ٹیکس ایکٹ کی شق 37A اور انکم ٹیکس ایکٹ کی شق (ایس) 21شامل ہیں۔
اسکے علاوہ کاروباری نمائندوں نے ایف بی آر کی جانب سے یہ یقین دہانی حاصل کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا کہ آئندہ کسی بھی ٹیکس پالیسی میں تبدیلی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر نہیں کی جائے گی۔


Comments
Comments are closed.