تجارتی کشیدگی کم کرنے اور ٹرمپ-شی ملاقات یقینی بنانے کی کوشش، امریکہ اور چینی حکام کوالالمپور میں مذاکرات میں مصروف
امریکہ اور چین کے اعلیٰ اقتصادی عہدیداروں نے ہفتے کو کوالالمپور میں بات چیت کا آغاز کر دیا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ میں شدت پیدا ہونے سے روکا جاسکے اور آئندہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات کو یقینی بنایا جا سکے۔
آسیان سربراہی اجلاس کے موقع پر ہونے والی یہ بات چیت ٹرمپ کی جانب سے یکم نومبر سے چینی مصنوعات پر 100 فیصد نئے محصولات اور دیگر پابندیوں کی دھمکی کے بعد اہمیت اختیار کر گئی ہے، جو چین کی جانب سے نایاب معدنیات اور رئیر ارتھ میگنیٹس پر وسیع کنٹرول کے جواب میں دی گئی۔
یہ اقدامات جن میں امریکہ کی جانب سے ہزاروں مزید چینی کمپنیوں کو برآمدی بلیک لسٹ میں شامل کرنا بھی شامل ہے، نے مئی سے جاری چار سابقہ ملاقاتوں کے دوران امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ، امریکی تجارتی نمائندے جیمسن گریر اور چینی نائب وزیر اعظم ہی لیفینگ کے ذریعے تیار کردہ نازک تجارتی سیز فائر کو متاثر کیا ہے۔
چین کے سینئر ترین تجارتی مذاکرات کار لی چنگ گانگ بھی مذاکرات میں شریک ہیں۔ ملاقات مرڈیکا 118 ٹاور میں ہوئی، جو دنیا کی دوسری بلند ترین عمارت ہے۔ ملائیشیا کی حکومت اور امریکی و چینی حکام نے ملاقات یا اس کے نتائج کے حوالے سے میڈیا کو تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔
تینوں اہلکار اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ جمعرات کو جنوبی کوریا میں ایشیا-پیسیفک اکنامک کوآپریشن سمٹ کے دوران ٹرمپ اور شی ملاقات کریں، جس میں ممکنہ طور پر محصولات میں عارضی رعایت، ٹیکنالوجی کنٹرولز اور امریکی سویا بین کی خریداری جیسے مسائل زیرِ بحث آئیں گے۔
مذاکرات سے چند منٹ قبل صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ کسانوں کے مسائل اور ہانگ کانگ کے میڈیا ٹائیکون جمی لائی کی رہائی کے معاملات پر بات کریں گے، جبکہ تائیوان کے بارے میں ابھی کوئی دورہ طے نہیں ہے۔
وائٹ ہاؤس سے روانگی کے موقع پر ٹرمپ نے کہا کہ ہمارے پاس صدر شی کے ساتھ بات کرنے کے لیے بہت کچھ ہے، اور ان کے پاس بھی ہمارے ساتھ بات کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہماری ملاقات اچھے انداز میں ہوگی۔“
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی ٹیکنالوجی پابندیوں اور چین کے نایاب معدنیات پر کنٹرول کے اختلافات حل کرنا اولین ترجیح ہوگی، اور اگر کوئی معاہدہ نہیں ہوا تو تجارتی کشیدگی اور بڑھ سکتی ہے۔


Comments
Comments are closed.