بھارت نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال سے متعلق نئے ضوابط تجویز کیے ہیں جن کا مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی غلط معلومات اور ڈیپ فیک ویڈیوز کے پھیلاؤ پر قابو پانا ہے۔
بھارتی وزارتِ اطلاعات و ٹیکنالوجی نے بدھ کی رات مجوزہ ترامیم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی یا تخلیقی میڈیا بنانے کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال کے باعث یہ اقدام ناگزیر ہو گیا ہے۔
وزارت اطلاعات کے جاری کردہ نوٹ میں کہا گیا کہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے والی ڈیپ فیک ویڈیوز، آڈیوز اور تخلیقی میڈیا نے یہ ثابت کیا ہے کہ جنریٹیو اے آئی جھوٹے مگر قابلِ یقین مناظر تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس طرح کے مواد کو غلط معلومات پھیلانے، شہرت کو نقصان پہنچانے، انتخابات پر اثر انداز ہونے یا مالی فراڈ کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بھارت میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 900 ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔ اگرچہ چین میں زیادہ صارفین ہیں، لیکن بھارت امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے زیادہ کھلی مارکیٹ ہے۔
حکومت نے سہیوگ کے نام سے ایک آن لائن پورٹل بھی متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ایکس اور فیس بک کو حکومتی نوٹس خودکار طریقے سے بھیجے جائیں گے۔
وزارت اطلاعات نے کہا کہ مجوزہ ترامیم لیبلنگ، ٹریس ایبلٹی اور اکاؤنٹیبلٹی کے لیے واضح قانونی فریم ورک فراہم کریں گی اور سوشل میڈیا کمپنیوں پر مزید احتیاطی ذمہ داریاں عائد کریں گی۔ اس سال کئی بڑی اے آئی کمپنیوں نے بھارت میں توسیع کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔


Comments
Comments are closed.