بھارت اور امریکہ تجارتی معاہدے کے قریب، ٹیرف 15 فیصد تک کم کیے جانے کا امکان
بھارت اور امریکہ ایک طویل عرصے سے تعطل کا شکار تجارتی معاہدے کے قریب ہیں، جس کے تحت امریکی ٹیرف (درآمدی محصولات) کو بھارتی درآمدات پر 50 فیصد سے کم کر کے 15 سے 16 فیصد تک لایا جائے گا۔ بھارتی اخبار منٹ نے بدھ کے روز یہ خبر تین باخبر ذرائع کے حوالے سے دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ توانائی اور زراعت کے شعبوں پر مرکوز ہے اور اس کے نتیجے میں بھارت مرحلہ وار روسی خام تیل کی درآمدات میں کمی کرسکتا ہے۔
بھارت کی وزارتِ تجارت و صنعت اور وائٹ ہاؤس نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر فی الحال کوئی جواب نہیں دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی سے گفتگو کی، جس میں زیادہ تر توجہ تجارت پر مرکوز رہی۔
ٹرمپ نے کہا کہ توانائی بھی بات چیت کا حصہ تھی اور مودی نے انہیں یقین دلایا کہ بھارت روس سے تیل کی خریداری محدود کرے گا۔
مودی نے بھی تصدیق کی کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو ہوئی، تاہم انہوں نے تفصیلات نہیں بتائیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ صدر ٹرمپ کے فون کال اور دیوالی کی گرمجوشی سے بھرپور مبارکباد کا شکریہ۔ اس روشنی کے تہوار پر، ہماری دونوں عظیم جمہوریتیں امید کی کرن بن کر دنیا کو روشن کریں اور ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف متحد رہیں۔
منٹ کے مطابق واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے حصے کے طور پر بھارت غیر جینیاتی امریکی مکئی اور سویا میل کی درآمدات میں اضافہ کرنے پر آمادہ ہوسکتا ہے۔
اس معاہدے میں ٹیرف اور مارکیٹ تک رسائی کے حوالے سے ایک دورانیہ وار جائزہ میکانزم بھی شامل ہونے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ اور بھارت کے درمیان اس دوطرفہ تجارتی معاہدے کو رواں ماہ ہونے والے آسیان سربراہی اجلاس میں باضابطہ طور پر اعلان کیا جا سکتا ہے۔


Comments
Comments are closed.