بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جس نے دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ شہروں کی فہرست میں سرفہرست مقام حاصل کر لیا ہے۔ سوئس تنظیم آئی کیو ایئر کے مطابق منگل کے روز نئی دہلی میں فضائی معیار کی درجہ بندی 442 ریکارڈ کی گئی، جو عالمی ادارۂ صحت کی تجویز کردہ حد سے 59 گنا زیادہ ہے۔
یہ صورتحال بڑی حد تک دیوالی کے موقع پر آتش بازی کے استعمال کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے آتش بازی پر عائد پابندی میں نرمی کرتے ہوئے اتوار اور پیر کو صرف تین گھنٹے کے لیے ماحولیاتی طور پر نسبتاً محفوظ گرین کریکرز کے استعمال کی اجازت دی تھی، تاہم رپورٹس کے مطابق شہریوں نے مقررہ وقت سے دیر تک بھی آتش بازی کی۔
ان آتش بازیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں کے اخراج کی شرح عام پٹاخوں کے مقابلے میں 30 سے 50 فیصد کم ہوتی ہے، مگر بڑے پیمانے پر ان کے استعمال نے فضا کو زہریلا بنا دیا۔ بھارت کے مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ نے بھی دہلی کی فضائی کیفیت کو انتہائی خراب قرار دیا ہے، جس کا ایئر کوالٹی انڈیکس 350 ریکارڈ ہوا۔ حکام کے مطابق دہلی کی فضائی صورتحال آئندہ دنوں میں بھی بہتر ہونے کا امکان نہیں اور یہ انتہائی خراب سے خراب درجے میں ہی رہے گی۔
ہر سال سردیوں میں دہلی اور اس کے نواحی علاقے شدید اسموگ کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں، جب ٹھنڈی ہوا تعمیراتی دھول، گاڑیوں کے دھوئیں اور کھیتوں میں جلائی جانے والی فصلوں کے دھوئیں کو زمین کے قریب قید کر دیتی ہے۔ اس صورتحال سے تقریباً 2 کروڑ شہری سانس اور دل کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
دوسری جانب، سرحد پار پاکستان کے صوبہ پنجاب میں بھی فضا کی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے۔ لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 234 ریکارڈ کیا گیا، جو دنیا میں دوسرا بلند ترین ہے۔ پنجاب انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے ترجمان ساجد بشیر کے مطابق فی الحال بھارتی پنجاب اور دیگر علاقوں سے آنے والی آلودہ ہوا پاکستانی پنجاب کے مختلف حصوں میں فضائی معیار کو متاثر کر رہی ہے۔


Comments
Comments are closed.