BR100 Increased By (0.14%)
BR30 Decreased By (-0.12%)
KSE100 Increased By (0.15%)
KSE30 Increased By (0.16%)
BAFL 57.01 Increased By ▲ 0.14 (0.25%)
BIPL 24.99 Increased By ▲ 0.03 (0.12%)
BOP 30.45 Increased By ▲ 0.10 (0.33%)
CNERGY 13.13 Increased By ▲ 0.01 (0.08%)
DFML 16.85 Increased By ▲ 0.95 (5.97%)
DGKC 192.70 Increased By ▲ 0.25 (0.13%)
FABL 94.45 Increased By ▲ 0.31 (0.33%)
FCCL 52.75 Decreased By ▼ -0.04 (-0.08%)
FFL 14.82 Increased By ▲ 0.10 (0.68%)
GGL 19.20 Decreased By ▼ -0.36 (-1.84%)
HBL 306.99 Increased By ▲ 0.89 (0.29%)
HUBC 201.89 Increased By ▲ 0.47 (0.23%)
HUMNL 10.14 Decreased By ▼ -0.02 (-0.2%)
KEL 6.11 Increased By ▲ 0.02 (0.33%)
LOTCHEM 26.55 Increased By ▲ 0.09 (0.34%)
MLCF 93.57 Increased By ▲ 0.41 (0.44%)
OGDC 315.45 Decreased By ▼ -1.28 (-0.4%)
PAEL 35.62 Decreased By ▼ -0.01 (-0.03%)
PIBTL 14.92 Increased By ▲ 0.24 (1.63%)
PIOC 243.68 Increased By ▲ 0.47 (0.19%)
PPL 224.50 Decreased By ▼ -2.41 (-1.06%)
PRL 93.48 Increased By ▲ 0.46 (0.49%)
SNGP 91.89 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
SSGC 23.84 Increased By ▲ 0.03 (0.13%)
TELE 7.85 Increased By ▲ 0.05 (0.64%)
TPLP 12.89 Decreased By ▼ -0.08 (-0.62%)
TRG 56.71 Increased By ▲ 0.15 (0.27%)
UNITY 8.09 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)

کراچی پورٹ اس وقت اپنی استعداد کا صرف 50 فیصد استعمال کر رہا ہے کیوں کہ شہر میں مسلسل ٹریفک جام کے باعث زیادہ تر کنسائنمنٹس تاخیر کا شکار ہورہے ہیں۔

یہ بات کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے قائم مقام چیئرمین ریئر ایڈمرل عتیق الرحمان نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کے اجلاس میں کہی، جس کی صدارت ایم این اے ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے کی۔

انہوں نے بتایا کہ ٹریفک کے شدید مسائل کے باعث کے پی ٹی صرف 50 ملین ٹن کارگو ہینڈل کر رہا ہے، جبکہ اس کی کل استعداد 125 ملین ٹن ہے۔

ڈاکٹر اختیار بیگ نے کہا کہ متعدد بار ایکسپورٹ کنسائنمنٹس بروقت پورٹ نہ پہنچنے کی وجہ سے شپمنٹس مس ہو گئیں، جس کے باعث ایکسپورٹرز کو بھاری مالی نقصان اور بعض اوقات آرڈرز کی منسوخی کا سامنا کرنا پڑا۔

رکن قومی اسمبلی محمد جاوید حنیف خان نے کہا کہ منصوبے میں تاخیر کراچی کے عوام کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے کیونکہ ٹریلروں اور ڈمپرز کو مرکزی شہر کے راستوں سے گزرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ این ایچ اے کی جانب سے ناردرن بائی پاس کو پورٹ سے جوڑنے کی تجویز قابلِ عمل نہیں کیونکہ یہ 52 کلومیٹر طویل ہے، جبکہ مرکزی شہر سے سپر ہائی وے کا فاصلہ صرف 23 کلومیٹر ہے، اس لیے ٹرانسپورٹرز لمبا راستہ اختیار نہیں کریں گے۔

کمیٹی کو لیاری الیویٹڈ فریٹ کوریڈور (ایل ای ایف سی) منصوبے پر کے پی ٹی کی حالیہ اسٹڈی سے آگاہ کیا گیا، جس کا مقصد کراچی پورٹ کو براہِ راست چوبیس گھنٹے ہائی وے لنک دینا ہے۔ ابتدائی لاگت 288 ملین ڈالر سے بڑھ کر 1.085 ارب ڈالر ہو گئی ہے، جو کورین ایکسِم بینک نے تجویز کی۔

کمیٹی نے این ایچ اے کے کم لاگت والے تخمینے کو زیادہ مناسب قرار دیا اور زور دیا کہ منصوبے کو پی ایس ڈی پی یا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ ملکی معیشت کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔

کمیٹی نے کےپی ٹی اور این ایچ اے کو مشورہ دیا کہ وہ مل کر منصوبے پر عملی اور پائیدار حل نکالیں اور ایل ای ایف سی کو پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کے لیے وزارت مواصلات سے رابطہ کیا جائے گا۔

کمیٹی نے 6 فیصد سود والے قرض کو ناقابل قبول اور غیر دانشمندانہ قرار دیا اور بہتر آپشن کے ہوتے ہوئے ایسے مہنگے قرضے پر سوالات اٹھائے۔

آخر میں کمیٹی نے دریاؤں کے کناروں پر غیر قانونی تعمیرات پر تشویش ظاہر کی جو حالیہ سیلاب میں تباہی کا باعث بنیں اور مستقبل میں ایسی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے پالیسی اقدامات کا مطالبہ کیا۔

اجلاس میں مختلف ارکانِ اسمبلی، سیکریٹری اقتصادی امور اور متعلقہ وزارتوں کے حکام نے شرکت کی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

Comments

Comments are closed.