کے الیکٹرک کی ملکیت سے متعلق سعودی سرمایہ کاری کی خبریں گمراہ کن قرار
کے الیکٹرک کی ملکیتی کمپنی کے ای ایس پاور لمیٹڈ (کے ای ایس پی) کے ڈائریکٹر شان اے اشعری نے ان خبروں کو گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ حسن چشتی نے سعودی سرمایہ کار کے ساتھ کےای ایس پی میں اپنے مبینہ حصص کی فروخت کے لیے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
یہ وضاحت کے الیکٹرک کی جانب سے جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو بھیجے گئے نوٹس میں سامنے آئی۔
ال جمیح پاور لمیٹڈ (اےجے پی) جو کے ای ایس پی کے بڑے شیئر ہولڈرز میں شامل ہے کی طرف سے جاری کردہ خط میں شان اے اشری نے کہا کہ کے ای ایس پی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور نہ ہی اس کے شیئر ہولڈرز کو کسی ایسے ممکنہ سودے سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔
اشعری کے مطابق میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹس کے سوا مجھے کے ای ایس پی میں کسی شیئر کی فروخت کے لین دین کا علم نہیں اور نہ ہی بورڈ یا شیئر ہولڈرز کو کوئی باضابطہ اطلاع دی گئی ہے۔
شان اے اشعری نے خط میں اس خدشے کا اظہار کیا کہ ایسے اعلانات کا مقصد پاکستان میں رائے عامہ کو متاثر کرنا اور سعودی حکام سے مبینہ تعلقات کے ذریعے سرکاری سطح پر سنجیدگی حاصل کرنا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کی میڈیا رپورٹس نہ کے ای ایس پی کے مفاد میں ہیں اور نہ ہی کے الیکٹرک کے دیگر شیئر ہولڈرز کے لیے مفید ہیں۔
خاص طور پر جب ایسی کسی پیش رفت کی ہمیں یا کے الیکٹرک کو کوئی اطلاع نہیں دی گئی تو یہ سب صرف یہ فرضی کہانی یا دکھاوے سے زیادہ کچھ نہیں لگتا۔
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب چند روز قبل وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی میزبانی میں سعودی شہزادے منصور بن محمد آل سعود کی قیادت میں 30 رکنی کاروباری وفد کی موجودگی میں دو یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
ان میں ایک ایم او یو کے ای ایس پاور لمیٹڈ کے حصص کی خرید و فروخت، جبکہ دوسرا ایم اویو کے الیکٹرک اور ٹرائیڈنٹ انرجی لمیٹڈ کے درمیان توانائی کے شعبے میں ممکنہ سرمایہ کاری سے متعلق تھا۔
ملکیت کے حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے شان اے اشری نے کہا کہ حسن چشتی کے ای ایس پی میں کوئی شیئر نہیں رکھتے، اس لیے وہ فروخت کا اختیار نہیں رکھتے۔
خط میں مزید بتایا گیا کہ کے ای ایس پی کے شیئر ہولڈرز میں ڈینہم،اےجےپی انسویسٹمنٹ لمیٹڈ اور آئی جی سی ایف ایس پی وی 21 لمیٹڈ شامل ہیں جس کے واحد ڈائریکٹر کیسی میکڈونلڈ ہیں اور صرف وہی ایس پی وی 21 کے شیئرز فروخت کرنے کے مجاز ہیں۔
شان اے اشعری نے کہا کہ شیئر ہولڈرز معاہدے (ایس ایچ اے) کے تحت ایس پی وی 21 میں کنٹرول کی تبدیلی اے جے پی اور ڈینہم کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں۔
اس کے برعکس حسن چشٹی نے ایس پی وی 21 پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، جس پر اے جے پی اور ڈینہم نے کیمین آئی لینڈز کی عدالت میں کارروائی شروع کر دی ہے۔
31 جولائی 2025 کے عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ یہ ایک قابل سماعت معاملہ ہے کہ آیا ایس پی وی نے ایس ایچ اے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چشٹی کو کنٹرول حاصل کرنے دیا۔
شان اے اشعری کے مطابق جب تک ایس ایچ اے کے تحت تمام فریقین کی رضامندی شامل نہ ہوکے ای ایس پی میں کسی قسم کی ملکیتی تبدیلی ممکن نہیں۔


Comments
Comments are closed.