کریملن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو مسترد کر دیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ روسی معیشت جلد تباہ ہو جائے گی۔ روسی صدارتی ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس کے پاس مضبوط مالی ذخائر موجود ہیں اور معیشت اتنی مستحکم ہے کہ صدر ولادیمیر پیوٹن اپنے اہداف پورے کر سکتے ہیں۔
پیسکوف نے کہا کہ صدر پیوٹن یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت پر تیار ہیں اور ماسکو ٹرمپ کی کوششوں کا شکر گزار ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ روسی معیشت کے بارے میں ٹرمپ کا تجزیہ غلط ہے۔
روس کے نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے بھی کہا کہ ملک میں پٹرول کی فراہمی مستحکم ہے اور کسی قسم کے بحران کا سامنا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پیداوار اور کھپت کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 2025 میں روس کی شرحِ نمو کی پیشگوئی 0.9 فیصد سے کم کر کے 0.6 فیصد کر دی ہے۔
تاہم کریملن کا مؤقف ہے کہ معیشت کو جان بوجھ کر سست کیا جا رہا ہے ،تاکہ استحکام برقرار رہے اور پابندیوں کے باوجود روسی معیشت نے گزشتہ دو سال میں جی سیون ممالک سے بہتر کارکردگی دکھائی۔


Comments
Comments are closed.