BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)

مدغاسکر میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا، جہاں صدر اینڈری راجویلینا نے قومی اسمبلی تحلیل کر کے خود کو عہدے سے ہٹانے کیلئے ووٹنگ سے روک دیا، جبکہ دارالحکومت میں ہزاروں افراد ان کے استعفے کے مطالبے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

سرکاری ملازمین، ٹریڈ یونین نمائندوں اور نوجوانوں کی قیادت میں جاری یہ مظاہرے اب فوج اور سیکیورٹی فورسز کے بعض ارکان کی حمایت بھی حاصل کر چکے ہیں، جنہوں نے صدر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

راجویلینا، جو 2009 میں فوجی حمایت یافتہ بغاوت کے نتیجے میں اقتدار میں آئے تھے، نے خطاب میں کہا کہ وہ ملک نہیں چھوڑ رہے بلکہ محفوظ مقام پر ہیں اور بحران کے حل کے لیے مشن پر ہیں ۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے اور ملک کو تباہی سے بچانے کے لیے پرعزم ہیں۔

پانی اور بجلی بحران کے ستائے مظاہرین نے راجویلینا اور میکرون باہر کے نعروں کے ساتھ فرانس پر مداخلت کے الزامات عائد کیے، تاہم پیرس نے اس کی تصدیق سے انکار کیا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق احتجاج کے آغاز سے اب تک کم از کم 22 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ صدر نے اس تعداد سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ 12 افراد لٹیرے تھے ۔

سیاسی ماہرین کے مطابق مدغاسکر میں جاری کشیدگی ملک کے لیے ایک نئے سیاسی بحران اور فوجی مداخلت کے خطرے کو بڑھا رہی ہے۔

Comments

Comments are closed.