بنگلہ دیش کے بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے کے تناظر میں، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات ایک بار پھر معمول پر آنے کی راہ پر ہیں، جو 2008 سے کشیدہ رہے تھے۔ اس حوالے سے دونوں ممالک کی جانب سے متعدد اقدامات کیے جا چکے ہیں تاکہ موجودہ صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور تجارت و سرمایہ کاری سمیت اہم اقتصادی و صنعتی شعبوں میں پائیدار تعاون پر مبنی شراکت داری کو فروغ دیا جا سکے۔
تاہم نیک خواہشات اور رسمی معاہدوں کے باوجود عملی پیش رفت سست روی کا شکار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان حقیقی صلاحیت ابھی تک پوری طرح بروئے کار نہیں آسکی۔
ایک اہم پیش رفت 24 سے 25 اگست 2025 کے دوران اس وقت ہوئی جب پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ڈھاکا کا دورہ کیا اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس سے ملاقات کی۔
بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق، دونوں ممالک نے پرانے تعلقات بحال کرنے اور تجارت، رابطوں اور نوجوانوں کے تبادلوں کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس ملاقات سے چند روز قبل، 21 سے 24 اگست کے دوران پاکستان کے وزیرِ تجارت جام کمال خان ایک اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ بنگلہ دیش کے دورے پر گئے تھے۔
ان ملاقاتوں کا ایک اہم نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں ممالک نے طویل عرصے سے غیر فعال پاکستان-بنگلہ دیش جوائنٹ اکنامک کمیشن (جے ای سی) کو دوبارہ فعال کرنے اور ایک نیا ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کمیشن قائم کرنے پر اتفاق کیا، جس کا مقصد دوطرفہ اقتصادی تعاون کو وسعت دینا اور سہولت فراہم کرنا ہے۔
اس سے قبل جنوری 2025 میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے 35 رکنی وفد نے دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے بنگلہ دیش کا دورہ کیا تھا۔
اس موقع پر جوائنٹ بزنس کونسل کے قیام کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ اسی دوران ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) نے 14 جنوری کو ڈھاکا میں بنگلہ دیش کو چاول برآمد کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے۔ ایک اور حالیہ پیش رفت میں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) نے ستمبر 2025 میں پاکستانی برآمد کنندگان کے ایک وفد کا اہتمام کیا، جس میں الیکٹریکل کیبلز اور دیگر مصنوعات کے نمائندے شامل تھے۔ یہ تمام اقدامات دونوں ممالک کے مابین کثیر شعبہ جاتی تعاون کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں، تاہم یہ کوششیں ابھی تک تجارتی حجم میں خاطر خواہ اضافے یا بڑے پیمانے پر مشترکہ منصوبوں میں تبدیل نہیں ہو سکیں۔
دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت مالی سال 2025 میں 865 ملین ڈالر رہی، جو پچھلے سال کے 712 ملین ڈالر کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔ پاکستان کی برآمدات بنگلہ دیش کو 19 فیصد اضافے سے 787 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ بنگلہ دیش سے درآمدات میں 38 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 78 ملین ڈالر تک جاپہنچیں۔ یہ حوصلہ افزا اضافہ ایک مثبت رجحان کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ تبدیلی پائیدار ہے یا عارضی۔ موازنہ کیا جائے تو پاکستان کی برآمدات بنگلہ دیش کو مالی سال 2023-24 میں 661 ملین ڈالر اور 2022 میں 839 ملین ڈالر رہیں، جو گزشتہ دہائی کی بلند ترین سطح تھی۔ بنگلہ دیش سے درآمدات 2021 میں 90 ملین ڈالر سے کم ہو کر مالی سال 2023-24 میں 57 ملین ڈالر رہ گئیں۔
آئندہ نظر ڈالیں تو، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم اگلے تین سالوں میں 3 بلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ تاہم اس ہدف کے حصول کے لیے ایک فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) یا پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کا معاہدہ طے کرنا، نئے تجارتی شعبوں میں توسیع، اور ٹرانسپورٹ و لاجسٹک روابط کو بہتر بنانا ضروری ہوگا۔ ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو دور کرنا بھی نہایت اہم ہوگا۔ بنگلہ دیش کی عالمی برآمدات 2024 میں 50 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جبکہ اس کی درآمدات تقریباً 70 بلین ڈالر رہیں، جو پاکستان کے لیے اپنی برآمدات کا حصہ بڑھانے کے لیے ایک بڑی گنجائش فراہم کرتی ہیں۔
پاکستان کے انجینئرنگ مصنوعات کی برآمد کے لیے نہایت امید افزا مواقع موجود ہیں، جن میں چینی، سیمنٹ اور کیمیکل فیکٹریوں کے لیے مشینری اور آلات کے ساتھ ساتھ ریلویز کے لیے سامان بھی شامل ہے۔ ہلکی انجینئرنگ مصنوعات مثلاً ٹریکٹرز، زرعی اوزار، آٹوموٹیو پرزے، آبپاشی کے پمپ، پاور ٹرانسفارمرز، ٹرانسمیشن ٹاورز، بوائلرز، مائننگ کا سامان اور ایئر کنڈیشنگ سسٹمز کی بھی مانگ پائی جاتی ہے۔ اپنی مضبوط صنعتی بنیاد اور بین الاقوامی طور پر مسابقتی قیمتوں کے باعث پاکستان ان اشیا کی فراہمی کے لیے بنگلہ دیش کو ایک موزوں سپلائر بن سکتا ہے۔
تاریخی طور پر، پاکستان نے بنگلہ دیش کو ریلوے کوچز، آلات اور رولنگ اسٹاک فراہم کیے ہیں—ایک ایسا تعاون جسے دوبارہ بحال کرکے بامعنی طور پر وسعت دی جا سکتی ہے۔
بنگلہ دیش کی شوگر انڈسٹری ایک خاص طور پر مضبوط ممکنہ منڈی کی نمائندگی کرتی ہے۔ ملک میں 15 سرکاری شعبے کی شوگر ملیں کام کر رہی ہیں، جبکہ ماضی میں اس نے پاکستان سے دو مکمل ٹرن کی ملیں—نٹور اور پبنا—درآمد کی تھیں، جن میں سے ہر ایک کی روزانہ گنے کی کرشنگ کی صلاحیت 1,500 سے 2,000 ٹن ہے۔ یہ ملیں آج بھی مؤثر انداز میں کام کر رہی ہیں۔
بنگلہ دیش کے شوگر سیکٹر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور جدیدیت کے منصوبے جاری ہیں، جن کی مالیت 2030 تک تقریباً 2.29 بلین امریکی ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ ایسے میں پاکستان اس مارکیٹ میں مشینری اور ریفائنڈ شوگر کا ایک اہم سپلائر بن کر دوبارہ داخل ہو سکتا ہے۔
اسی طرح، بنگلہ دیش کا تعمیرات اور سیمنٹ کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جس کی وجہ شہری توسیع، صنعتی نمو، اور ملک کی حیثیت بطور جنوبی ایشیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ اس کی سیمنٹ انڈسٹری میں 42 پلانٹس کام کر رہے ہیں، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت سالانہ 78 ملین ٹن ہے، تاہم یہ شعبہ پرانی مشینری اور مالی مشکلات جیسے چیلنجز سے دوچار ہے۔
پاکستان نے ماضی میں اس شعبے کو مشینری فراہم کی تھی، خصوصاً مونگلا سیمنٹ فیکٹری میں۔ پاکستان مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور صنعتی تعاون کے ذریعے بنگلہ دیش کی سیمنٹ انڈسٹری کی جدیدیت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
پاکستان کی روایتی برآمدات میں ٹیکسٹائل، معدنی مصنوعات، صنعتی مشینری، اور کیمیکلز شامل ہیں، جبکہ بنگلہ دیش سے درآمدات بنیادی طور پر جوٹ، ٹیکسٹائل فائبرز، خام تمباکو، اور اسکریپ جہازوں پر مشتمل ہیں۔ مستقبل میں چاول، سیمنٹ، چینی، اسٹیل، سیرامکس، سنگِ مرمر، کوئلہ، اسپورٹس گُڈز اور سرجیکل آلات کے شعبوں میں بھی مواقع دستیاب ہیں۔
دوسری جانب، بنگلہ دیش پاکستان کو چمڑے کی مصنوعات، پلاسٹک کے سامان، چائے اور دیگر اشیاء کی برآمدات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اسی طرح آئی ٹی، سیمنٹ، دواسازی اور کیمیکلز کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو نمایاں طور پر بڑھا سکتے ہیں۔
اگرچہ سیاسی ماحول اور حکومتی پالیسیوں کے اشارے حوصلہ افزا ہیں، تاہم ان امکانات کو عملی شکل دینے کے لیے واضح روڈمیپ اور بروقت عمل درآمد ضروری ہوگا۔ کئی برسوں سے غیر فعال پاکستان-بنگلہ دیش جوائنٹ اکنامک کمیشن (جے ای سی) کو دوبارہ فعال کرنا اس سمت میں سب سے اہم قدم ہوگا۔ علاقائی تجارتی فریم ورکس جیسے ساؤتھ ایشین فری ٹریڈ ایریا اور ڈیولپنگ 8 کنٹریز (ڈی-8) کو بھی ازسرِنو متحرک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اقتصادی و صنعتی روابط کو وسعت دی جا سکے۔
مختصراً، ایک مضبوط دوطرفہ اقتصادی شراکت داری کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ تاہم حقیقی فائدے اس وقت حاصل ہوں گے جب سیاسی عزم مستقل رہے، تجارتی رکاوٹیں دور کی جائیں، اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ ایک فعال، شعبہ جاتی توجہ پر مبنی حکمتِ عملی پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعاون کو علاقائی اقتصادی ترقی اور انضمام کا ایک مضبوط ستون بنا سکتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.