ملک کی نمایاں ٹیکس ماہرین کی تنظیموں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے مطالبہ کیا ہے کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 نومبر 2025 تک بڑھائی جائے، کیونکہ آئیرس پورٹل میں جاری تکنیکی خرابیوں اور قانونی طور پر مقررہ مدت میں مؤثر کمی کے باعث ٹیکس دہندگان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن (پی ٹی بی اے) اور کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن (کے ٹی بی اے) نے علیحدہ مگر یکساں درخواستوں میں ایف بی آر کو آگاہ کیا کہ ٹیکس دہندگان کے لیے 15 اکتوبر کی موجودہ ڈیڈلائن پوری کرنا عملی طور پر ممکن نہیں رہا۔
پی ٹی بی اے نے اپنے خط میں کہا کہ ٹیکس دہندگان ایف بی آر کے خودکار پیغامات، جن میں اثاثوں، کریڈٹ/ڈیبیٹ کارڈ کے اخراجات اور بینک لین دین سے متعلق معلومات شامل ہیں، کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
خط کے مطابق، ہم سمجھتے ہیں کہ لوگ ایف بی آر کے پیغامات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور اب وہ مکمل معلومات کے ساتھ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے خواہاں ہیں۔
دوسری جانب کے ٹی بی اے نے نشاندہی کی کہ آئیرس پورٹل میں سنگین تکنیکی مسائل اب بھی برقرار ہیں، حالانکہ اس حوالے سے ایف بی آر کو متعدد بار آگاہ کیا گیا۔
ایسوسی ایشن نے بتایا کہ 28 اگست، 16 ستمبر، 19 ستمبر اور 23 ستمبر 2025 کو تفصیلی خطوط ارسال کیے گئے جن میں ان خرابیوں اور قانونی پیچیدگیوں کو اجاگر کیا گیا، مگر ان میں سے بیشتر مسائل تاحال حل نہیں کیے گئے۔
کے ٹی بی اے کے مطابق، ان خرابیوں نے ٹیکس دہندگان اور ان کے نمائندگان کے لیے نمایاں مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
دونوں تنظیموں نے یہ بھی کہا کہ حتمی ریٹرن فارم کے دیر سے اجرا نے قانونی طور پر مقرر کردہ گوشوارے جمع کرانے کی مدت کو کم کر دیا ہے۔
انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق 118 کے تحت، ٹیکس دہندگان کو مقررہ تاریخ سے 92 دن کا وقت دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے گوشوارے جمع کرا سکیں، تاہم ایف بی آر نے حتمی ریٹرن فارم 18 اگست 2025 کو جاری کیا، جس سے یہ مدت 49 دن کم رہ گئی۔
کے ٹی بی اے کے مطابق، یہ توسیع اس لیے ناگزیر ہے تاکہ ٹیکس دہندگان کو اپنے قانونی فرائض پورے کرنے کا منصفانہ موقع مل سکے، بغیر اس کے کہ انہیں ایسی غلطیوں پر سزا دی جائے جن کی ذمہ داری ان پر عائد نہیں ہوتی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.