وفاقی حکومت نے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر باقاعدہ طور پر پاکستان کرپٹو کونسل قائم کر دی ہے جس کا مقصد ملک میں کرپٹو کرنسی کے لیے ایک جامع ریگولیٹری اور عملی فریم ورک تیار کرنا ہے۔ قومی اسمبلی کو جمعہ کے روز اس اقدام سے آگاہ کیا گیا۔
وقفۂ سوالات کے دوران ارکان کے سوالات کے جواب میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کرپٹو کرنسی کے استعمال کو نہ فروغ دینا ہے اور نہ ہی اس کی حوصلہ شکنی کرنا، بلکہ اسے ایک منظم قانونی نظام کے دائرے میں لا کر شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانا اور ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرپٹو کرنسی پاکستان میں ایک نسبتاً نیا رجحان ہے۔ غیر منظم یا وقتی اقدامات کے بجائے حکومت اس شعبے کو باضابطہ قانونی و ادارہ جاتی ڈھانچے کے ذریعے منظم کرنے پر کام کررہی ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ تیار کیا جانے والا فریم ورک غیر قانونی لین دین، منی لانڈرنگ اور مالی جرائم کے خطرات کو کم کرنے میں مدد دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت اس بات کے کوئی شواہد موجود نہیں کہ ملک میں ڈیجیٹل کرنسیاں حوالہ یا دیگر غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرپٹو لین دین ابھی تک باضابطہ مالیاتی نظام کا حصہ نہیں بنیں، تاہم مستقبل میں ممکنہ غلط استعمال سے بچاؤ کے لیے یہ فریم ورک متعارف کرایا جا رہا ہے۔
طارق فضل چوہدری نے مزید بتایا کہ حکومت نے وزیرِاعظم کے ایک معاونِ خصوصی کو کرپٹو کرنسی پالیسی کی تیاری اور اس کی بین الاقوامی معیار کے مطابق ہم آہنگی کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، خصوصاً مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کو نظامِ حکومت اور معیشت میں شامل کرنے کے لیے پُرعزم ہے، کیونکہ عالمی سطح پر ہونے والی ڈیجیٹل تبدیلیاں لچکدار اقدامات کا تقاضا کرتی ہیں، ہم ٹیکنالوجی سے وابستہ شعبوں اور آئی ٹی تنصیبات کو بلا تعطل بجلی اور انفرااسٹرکچر کی سہولت فراہم کررہے ہیں۔
ایک علیحدہ نوٹ پر، وفاقی وزیر نے یقین دلایا کہ تمام مالیاتی اصلاحات اسلامی اصولوں کے مطابق رہیں گی، اور یاد دلایا کہ ماضی میں سود سے پاک اسلامی بینکاری کو روایتی مالیاتی نظام کے متبادل کے طور پر اپنایا گیا تھا۔ انہوں نے قانون سازوں کو دعوت دی کہ وہ ریگولیٹری عمل کی تشکیل میں اپنی تجاویز پیش کریں اور یقین دہانی کرائی کہ تمام سفارشات کا متعلقہ حکام کی جانب سے بغور جائزہ لیا جائے گا۔
پی ٹی آئی کے رکنِ قومی اسمبلی علی محمد خان کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کا فوکس میکرو اکنامک استحکام کے حصول اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے پر ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.