کمانڈوز کی وردی پہن سکتی ہوں تو صفائی ہیروز کی کیوں نہیں ؟ مریم نواز، راشن کارڈ پروگرام کا اعلان
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے بھر کے ڈیڑھ لاکھ سینیٹری ورکرز کے لیے راشن کارڈ پروگرام کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے پنجاب کو صاف اور سرسبز رکھنے میں صفائی عملے کی محنت و لگن کو زبردست انداز میں خراج تحسین پیش کیا۔
صاف ستھرا پنجاب کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ اگر میں بطور وزیراعلیٰ کمانڈوز کی وردی پہن سکتی ہوں تو صفائی کے ہیروز کی وردی کیوں نہیں؟۔ انہوں نے صفائی فورس کے تمام ارکان کو اپنی صوبائی ٹیم کا حصہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب کے دوران صفائی عملے نے انسانی ہمدردی کے تحت اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر متاثرین اور ان کی املاک کو بچایا، حالانکہ یہ ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں شامل نہیں تھا۔ انہوں نے ساہیوال سمیت مختلف شہروں میں صفائی کے عملے کی کارکردگی کو سراہا۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ڈیڑھ لاکھ ارکان پر مشتمل صاف ستھرا پنجاب ٹیم دنیا کی سب سے بڑی صفائی ٹیم ہے۔ انہوں نے سابق حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کے دور کے بعد ویسٹ مینجمنٹ کا نظام تباہ ہو گیا تھا لیکن اب ہر ضلع کو جدید صفائی مشینری فراہم کی جا رہی ہے۔ ایک سال میں پورے صوبے میں جدید نظام نافذ کر دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اب ہر ضلع کے پاس اپنی مشینری ہے اور عیدالاضحیٰ پر کچرا دو گھنٹوں میں صاف کر دیا جاتا ہے۔ شہروں کے ساتھ ساتھ دیہات میں بھی صفائی ممکن ہوئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے تعلیم، صحت، سڑکوں، صفائی اور ٹرانسپورٹ کو عوام کا بنیادی حق قرار دیا اور طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ اور وظائف کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں جرائم کی شرح کم ہو چکی ہے اور خواتین کو ہراساں کرنے والوں کو فوری گرفتار کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں صرف گلیاں نہیں، ذہن بھی صاف کر رہی ہوں۔ اگر میں عوام کے لیے نہیں بولوں گی تو کون بولے گا؟۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اپنی حکومتوں سے جواب طلبی کا حق حاصل ہے۔


Comments
Comments are closed.