انڈونیشیا کے صوبہ مشرقی جاوا میں اسلامی مدرسے کی عمارت گرنے سے ہلاک ہونے والوں کی تلاشی کارروائی منگل کو ختم کر دی گئی۔ امدادی حکام کے مطابق ملبے سے 60 سے زائد لاشیں نکال لی گئیں۔
یہ سانحہ گزشتہ ہفتے صیدوآرجو کے چھوٹے سے قصبے میں پیش آیا جہاں الخوزینی بورڈنگ اسکول کی عمارت بنیادوں کی کمزوری کے باعث نمازِ عصر کے وقت منہدم ہوگئی تھی۔ عمارت میں زیادہ تر نوعمر طلبہ موجود تھے جن میں سے بیشتر محفوظ نکل آئے۔
ڈیزاسٹر مٹیگیشن ایجنسی کے مطابق عمارت سے 61 لاشیں اور سات انسانی اعضا برآمد کیے گئے ہیں جن کی شناخت پولیس کر رہی ہے۔ ادارے نے اس سانحے کو رواں سال کا سب سے ہلاکت خیز واقعہ قرار دیتے ہوئے آپریشن مکمل ہونے کا اعلان کیا۔
ریسکیو حکام نے بتایا کہ الخوزینی اسکول کی عمارت گرنے کے باعث شروع ریسکیو آپریشن باضابطہ طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ امدادی ٹیموں نے ملبہ ہٹانے کے لیے ایکسکیویٹرز اور کرینز کا استعمال کیا جبکہ کچھ رضاکار سرنگ نما راستوں سے گزرتے ہوئے ممکنہ زندہ افراد کو آوازیں دیتے رہے۔
انڈونیشیا میں ایسے 42,000 سے زائد دینی مدارس (پیسنٹرن) موجود ہیں جن میں سے صرف 50 کے پاس تعمیراتی اجازت نامے ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق الخوزینی کے پاس عمارت کا اجازت نامہ نہیں تھا۔


Comments
Comments are closed.