ایران نے اپنی قومی کرنسی میں اصلاحات کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت آنے والے برسوں میں چار صفر ختم کر دیے جائیں گے تاکہ طویل عرصے سے جاری افراطِ زر کے بعد مالی لین دین کو آسان بنایا جا سکے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، پارلیمنٹ نے یہ منظوری اس وقت دی جب گارڈین کونسل کے اعتراضات دور کر دیے گئے۔ یہ بل کئی سالوں سے زیرِ غور تھا۔
ملک میں 35 فیصد سے زائد افراطِ زر نے ایرانی کرنسی کی قدر کو شدید متاثر کیا ہے، اور آزاد مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر تقریباً گیارہ لاکھ 50 ہزار ریال کے برابر ہو گیا ہے، جس سے روزمرہ لین دین اور فنانشنل اسٹیٹمنٹ کو سمجھنا عوام کے لیے مشکل ہو گیا ہے۔
پارلیمانی اقتصادی کمیشن کے سربراہ شمس الدین حسین نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ کرنسی کا نام ریال ہی رہے گا اور یہ تبدیلی یکدم نہیں ہوگی۔ مرکزی بینک کے پاس اس تبدیلی کی تیاری کے لیے دو سال ہوں گے، جس کے بعد تین سالہ عبوری مدت میں پرانی اور نئی دونوں مالیتیں ایک ساتھ استعمال ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ریال کو لین دین اور حساب کتاب کے لحاظ سے زیادہ قابلِ استعمال بنائے گا کیونکہ افراطِ زر نے نوٹوں کی حقیقی افادیت کو متاثر کیا ہے۔
تاہم، یہ اقدام متنازع بھی ہے۔ رکنِ پارلیمنٹ حسین صمصامی نے کہا کہ قومی کرنسی کا وقار صرف صفر ختم کرنے سے بحال نہیں ہوتا، بلکہ اس کی اصل قدر مضبوط بنانے سے ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ وینیزویلا سمیت کئی ممالک نے بلند افراطِ زر کے دوران اپنی کرنسی سے صفر ختم کرنے کی کوشش کی ہے، مگر ان میں سے بیشتر اب بھی مہنگائی کے بحران سے دوچار ہیں۔


Comments
Comments are closed.