BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)

سانائے تاکائچی کے جاپان کی وزیرِ اعظم بننے کے امکانات بڑھنے کے ساتھ ہی ماہرین کا ماننا ہے کہ جاپانی مرکزی بینک (بی او جے ) رواں ماہ شرح سود میں اضافہ مؤخر کر سکتا ہے، تاہم اگر جاپانی ین پر دباؤ بڑھا تو یہ وقفہ زیادہ دیر نہیں چلے گا۔

تاکائچی جو ممکنہ طور پر 15 اکتوبر کو ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں گی، بڑی حکومتی سرمایہ کاری اور نرم مالیاتی پالیسی کی کھلی حامی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ معیشت کو فروغ دینا اور طلب میں اضافہ ان کی ترجیح ہوگی۔

اگرچہ مہنگائی 2 فیصد ہدف سے اوپر ہے، لیکن تاکائچی کا ماننا ہے کہ یہ قیمتوں میں اضافہ خام مال کی قیمتوں سے جڑا ہے، نہ کہ طلب سے۔ ان کے بقول مہنگائی تب ہی سودمند ہوگی جب اجرتوں میں اضافہ طلب کو بڑھائے اور کاروباری منافع میں بہتری آئے۔

ان کے اقتدار میں آنے سے بی او جے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ شرح سود میں جلد بازی نہ کرے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ین کی قدر کمزور ہو رہی ہے۔

تاکائچی ماضی میں آبینومکس کی مضبوط حامی رہی ہیں، یہ سابق وزیرِاعظم شنزو آبے کی وہ معاشی حکمت عملی تھی، جس میں حکومتی اخراجات میں اضافہ اور مالیاتی نرمی شامل تھی، تاہم موجودہ حالات میں جب مہنگائی بڑھ رہی ہے اور ین کی قدر کمزور ہو چکی ہے ان کے لیے مرکزی بینک کی پالیسیوں پر ویسی کھل کر تنقید کرنا ممکن نہیں رہا جیسا کہ وہ پہلے کرتی رہی ہیں۔

Comments

Comments are closed.