انڈونیشیا میں ایک اسلامی بورڈنگ اسکول کی عمارت گرنے کے واقعے میں مرنے والے طلبہ کی تعداد 16 سے بڑھ کر 36 ہو گئی ہے۔
ملک کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے اتوار کے روز بتایا کہ 27 لاپتا طلبہ کی تلاش کے لیے کوششیں ساتویں روز بھی جاری ہیں۔ لاپتہ طلبہ کی اکثریت 13 سے 19 سال کے عمر کے نوعمر لڑکوں پر مشتمل ہے جو ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
ایجنسی نے بتایا کہ ملبہ ہٹانے کے لیے کرینیں لگا دی گئی ہیں اور تلاش و بچاؤ کی کارروائی تقریباً 60 فیصد مکمل ہو چکی ہے۔ توقع ہے کہ پیر تک تمام ملبہ صاف کر کے سرچ آپریشن مکمل کر لیا جائے گا۔
مشرقی جاوا صوبے کے شہر سیدوارجو میں واقع الخوزینی اسکول کی عمارت گزشتہ پیر کے روز دوپہر کی نماز کے دوران گر گئی تھی۔ عمارت کی بنیادیں اوپری منزل پر جاری تعمیراتی کام کا بوجھ برداشت نہ کر سکیں، جس کے نتیجے میں سینکڑوں طلبہ اس کے ملبے تلے دب گئے۔
جمعے کے روز، والدین کی اجازت کے بعد امدادی کارکنوں نے بھاری مشینری کا استعمال شروع کیا کیونکہ ابتدائی کوششوں کے دوران کسی کے زندہ بچنے کے آثار نہیں ملے تھے۔
امدادی کارکنوں نے ملبے میں سرنگیں بنا کر تلاش جاری رکھی، طلبہ کے نام پکارے اور کسی بھی حرکت کا سراغ لگانے کے لیے سینسرز استعمال کیے، لیکن کسی کے زندہ ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
الخوزینی ایک اسلامی بورڈنگ اسکول ہے جسے مقامی طور پر پسنتریں کہا جاتا ہے۔
مذہبی امور کی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق انڈونیشیا، جو دنیا کا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک ہے، میں تقریباً 42,000 پسنتریں ہیں جن میں 70 لاکھ طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔


Comments
Comments are closed.