وفاقی حکومت نے ہفتے کے روز آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) میں حالیہ بدامنی کے خاتمے کے لیے ایک وسیع البنیاد معاہدہ پر دستخط کیے، جو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے ساتھ طے پایا۔ معاہدے کا مقصد سیاسی و معاشی شکایات کے ازالے کے ذریعے خطے میں پائے جانے والے تناؤ کو کم کرنا ہے۔
یہ معاہدہ ان پُرتشدد مظاہروں کے بعد سامنے آیا جن کا آغاز اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے اور بھارتی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے مہاجرین کے لیے مخصوص اسمبلی نشستوں کے خاتمے کے مطالبات سے ہوا تھا۔
پچھلے ہفتے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سڑکوں کی بندش، احتجاجی مظاہروں اور سیکیورٹی فورسز سے جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
دو مرحلوں پر مشتمل مذاکرات کے بعد طے پانے والا یہ معاہدہ نہ صرف فوری کشیدگی کم کرنے بلکہ طویل المدتی اصلاحات کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔ معاہدے میں عدالتی تحقیقات، انتظامی اصلاحات، انفراسٹرکچر منصوبے اور سماجی فلاحی اقدامات شامل ہیں۔
وفاقی مذاکراتی ٹیم کے رکن وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے معاہدے کی تفصیلات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیں۔
معاہدے کے مطابق، احتجاجی واقعات کے دوران ہونے والی ہلاکتوں پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایف آئی آرز درج کی جائیں گی جبکہ ضروری صورتوں میں عدالتی کمیشنز قائم کیے جائیں گے۔
ہلاک شدگان کے لواحقین کو سیکیورٹی اہلکاروں کے برابر مالی معاوضہ اور ایک خاندان کے فرد کو 20 دن کے اندر سرکاری ملازمت فراہم کی جائے گی۔ گولی لگنے سے زخمی ہونے والے افراد کو 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
انتظامی اصلاحات کے تحت آزاد کشمیر کی کابینہ کی تعداد 20 وزرا تک محدود کی جائے گی، جبکہ انتظامی سیکرٹریوں کی تعداد میں بھی کمی کی جائے گی۔ سیول ڈیفنس اور اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی جیسے محکموں کو ضم کر کے کارکردگی بہتر بنائی جائے گی۔
احستاب بیورو کو نیب قوانین کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، اسمبلی کی مخصوص نشستوں کے مسئلے کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح قانونی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
مقامی حکومت ایکٹ میں ترامیم 90 دن کے اندر لائی جائیں گی، جبکہ تعلیم کے شعبے میں مظفرآباد اور پونچھ میں دو نئے تعلیمی بورڈز قائم کیے جائیں گے۔ صحت کے شعبے میں ہیلتھ کارڈ پروگرام شروع کیا جائے گا اور ہر ضلع میں ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین مشینیں نصب ہوں گی۔
وفاقی حکومت نے 10 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا ہے تاکہ توانائی کے انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کیا جا سکے، جبکہ نیلم ویلی میں دو سرنگوں کی فزیبلٹی اسٹڈی سعودی ڈیولپمنٹ فنڈ کے تعاون سے کی جائے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے معاہدے کو امن کی بحالی اور عوامی شکایات کے ازالے کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا اور تمام فریقین کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا، وفاق اور آزاد کشمیر دونوں کے لیے امن و استحکام کا قیام خوش آئند ہے، تمام سازشیں اور افواہیں دم توڑ چکی ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.