امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ان کی آئندہ ملاقات میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ سویابین ایک اہم موضوع ہوگا۔ یہ ملاقات چار ہفتے بعد جنوبی کوریا میں ایشیا پیسفک اکنامک کوآپریشن فورم کے موقع پر ہوگی۔
ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر لکھا کہ ہمارے ملک کے سویابین کسان نقصان اٹھا رہے ہیں کیونکہ چین محض مذاکراتی وجوہات کی بنا پر خریداری نہیں کر رہا۔ اس وقت امریکہ کے خزاں کے سویابین کی فصل مارکیٹ میں آ رہی ہے، مگر چین — جو دنیا کا سب سے بڑا خریدار ہے — نے امریکہ کے بجائے جنوبی امریکہ سے درآمدات کی ہیں، جس سے امریکی کسان اربوں ڈالر کی متوقع آمدنی سے محروم ہوئے ہیں۔
ری پبلکن سینیٹر جان ہوون نے کہا کہ چین کی جانب سے خریداری کے دوبارہ آغاز کی کوئی واضح ٹائم لائن نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی سفیر ڈیوڈ پرڈیو کی بریفنگ میں یہ بات سامنے آئی کہ فی الحال فروخت کے امکانات کم ہیں اور اس وقت ضرورت ہے کہ امریکی حکومت کسانوں کو سہارا دے اور دباؤ برقرار رکھے۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر وعدہ کیا کہ ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدنی کو کسانوں کی مدد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین تجارتی مذاکرات میں دباؤ ڈالنے کے لیے جنوبی امریکہ سے خریداری کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ 2020 میں ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں چین کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت بیجنگ نے اربوں ڈالر مالیت کی امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم، چین نے یہ اہداف کبھی پورے نہیں کیے اور اپنی خوراک کے ذرائع متنوع بنانے کی پالیسی پر گامزن رہا۔
چینی سفارتخانے کے ترجمان لیو پینگ یو نے کہا کہ چین-امریکہ اقتصادی تعاون کی اصل روح باہمی فائدہ ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ دونوں ممالک اپنے سربراہان کے درمیان حالیہ فون کال میں طے پانے والی باتوں پر عمل درآمد کریں گے۔


Comments
Comments are closed.