امریکہ میں بدھ کے روز وفاقی حکومت کے بیشتر ادارے بند کر دیے گئے کیونکہ کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے درمیان شدید سیاسی تقسیم کے باعث فنڈنگ معاہدہ نہ ہو سکا۔ یہ تعطل ایک طویل اور کٹھن بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں وفاقی ملازمتیں ختم ہونے کا خطرہ ہے۔
حکومتی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ 1981 کے بعد یہ 15واں شٹ ڈاؤن ہوگا، جس کے دوران ستمبر کی ملازمتوں کی رپورٹ جاری نہیں ہو سکے گی، فضائی سفر سست پڑ جائے گا، سائنسی تحقیق معطل ہوگی، امریکی فوجیوں کو تنخواہیں نہیں ملیں گی اور تقریباً 7.5 لاکھ وفاقی ملازمین کو بغیر تنخواہ کے گھر بھیج دیا جائے گا، جس سے روزانہ 400 ملین ڈالر کا نقصان ہوگا۔
ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جن کی مہم پہلے ہی دسمبر تک تقریباً 3 لاکھ سرکاری ملازمین کو فارغ کرنے کے منصوبے پر گامزن ہے، نے ڈیموکریٹس کو خبردار کیا کہ شٹ ڈاؤن مزید نوکریوں میں کمی کا راستہ ہموار کر سکتا ہے۔
اسی دوران نائب صدر جے ڈی وینس نے فضائی سلامتی سے متعلق غیر معمولی انتباہ جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایئر ٹریفک کنٹرولرز اور ٹرانسپورٹیشن سکیورٹی ایڈمنسٹریشن (ٹی ایس اے) کے اہلکار، جو شٹ ڈاؤن کے باوجود اپنی ڈیوٹیز انجام دیتے ہیں، اپنی تنخواہوں میں تاخیر کے باعث ذہنی دباؤ میں ہوں گے۔
وینس نے فاکس نیوز پر کہا کہ اگر آپ آج سفر کر رہے ہیں تو ہم دعا گو ہیں کہ آپ بحفاظت منزل پر پہنچیں، لیکن ہو سکتا ہے وقت پر نہ پہنچ سکیں کیونکہ ایئر ٹریفک کنٹرولرز اور ٹی ایس اے اہلکاروں کو آج ادائیگی نہیں ہو رہی۔
امریکہ کی تاریخ کا سب سے طویل شٹ ڈاؤن 2018-19 میں ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران 35 دن جاری رہا تھا، جو اس وقت ختم ہوا جب ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی بیماری کے باعث پروازوں میں شدید تاخیر ہوئی۔
منگل کو سینیٹ ڈیموکریٹس نے ایک عارضی بل روک دیا جو 21 نومبر تک فنڈنگ فراہم کر سکتا تھا، کیونکہ ریپبلکنز لاکھوں امریکیوں کے لیے صحت کے فوائد میں توسیع سے انکار کر رہے ہیں، جو سال کے آخر میں ختم ہونے والے ہیں۔ یہ تعطل ابھی کسی واضح حل کے بغیر جاری ہے۔


Comments
Comments are closed.