BR100 Decreased By (-0.23%)
BR30 Decreased By (-0.01%)
KSE100 Decreased By (-0.19%)
KSE30 Decreased By (-0.24%)
BAFL 59.02 Decreased By ▼ -0.14 (-0.24%)
BIPL 27.17 Decreased By ▼ -0.09 (-0.33%)
BOP 36.46 Increased By ▲ 0.46 (1.28%)
CNERGY 11.94 Increased By ▲ 0.69 (6.13%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.12 (0.66%)
DGKC 218.03 Decreased By ▼ -2.16 (-0.98%)
FABL 100.40 Decreased By ▼ -0.15 (-0.15%)
FCCL 57.36 Increased By ▲ 0.48 (0.84%)
FFL 16.58 Increased By ▲ 0.07 (0.42%)
GGL 24.62 Increased By ▲ 0.72 (3.01%)
HBL 324.62 Decreased By ▼ -0.98 (-0.3%)
HUBC 225.64 Increased By ▲ 2.06 (0.92%)
HUMNL 10.79 Increased By ▲ 0.04 (0.37%)
KEL 7.32 Decreased By ▼ -0.10 (-1.35%)
LOTCHEM 27.14 Decreased By ▼ -0.06 (-0.22%)
MLCF 102.07 Decreased By ▼ -1.02 (-0.99%)
OGDC 319.19 Increased By ▲ 0.70 (0.22%)
PAEL 43.88 Decreased By ▼ -0.50 (-1.13%)
PIBTL 16.84 Decreased By ▼ -0.06 (-0.36%)
PIOC 274.84 Decreased By ▼ -1.02 (-0.37%)
PPL 221.55 Decreased By ▼ -0.93 (-0.42%)
PRL 63.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.09%)
SNGP 103.79 Decreased By ▼ -1.12 (-1.07%)
SSGC 27.28 Increased By ▲ 0.03 (0.11%)
TELE 8.62 Decreased By ▼ -0.19 (-2.16%)
TPLP 14.98 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
TRG 63.29 Increased By ▲ 0.92 (1.48%)
UNITY 11.51 Decreased By ▼ -0.39 (-3.28%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.01 (0.82%)
کاروبار اور معیشت

اسٹاک مارکیٹ نے نئی بلند ترین سطح عبور کر لی، 100 انڈیکس 165,000 سے زائد پوائنٹس کے ساتھ بند

  • کلیدی شعبوں میں بھرپور خریداری، آئی ایم ایف سے مذاکرات میں پیش رفت کی توقعات اور معاشی استحکام کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ توڑ تیزی کا سلسلہ منگل کے روز بھی جاری رہا، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس کاروباری روز کے اختتام پر نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔

کاروبار کے دوران مثبت رجحان غالب رہا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 10 انڈیکس انٹرا ڈے کے دوران بلند تریں سطح 166,556.29 پوائنٹس پر پہنچا۔

کاروباری سیشن کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,645.90 پوائنٹس (1 فیصد) اضافے کے ساتھ 165,493.58 پوائنٹس پر بند ہوا۔

پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان سات ارب ڈالر مالیت کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے دوسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے پہلے جائزے کے لیے مذاکرات کا آغاز پیر کے روز ہوا ہے۔ بات چیت کا محور مالیاتی کارکردگی، محصولات کی صورتحال اور گورننس اصلاحات پر رہا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق مذاکرات میں پاکستان کی حالیہ معاشی کارکردگی، ریونیو اہداف، اخراجاتی نظم و ضبط اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات میں پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔

بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ کی ریسرچ سربراہ ثناء توفیق نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کا وفد پہنچ چکا ہے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق فنڈ کو حالیہ سیلاب کے معیشت پر کسی بڑے اثرات کا خدشہ نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک اطمینان بخش اشارہ ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی معاشی اعداد و شمار میں کسی بڑی رکاوٹ کا امکان نہیں۔

ثنا توفیق نے آنے والی مہنگائی کے اعداد و شمار (جو بدھ کو جاری ہوں گے) کے حوالے سے کہا کہ افراطِ زر کی شرح اکائی ہندسوں (سنگل ڈیجیٹس) میں رہے گی، جو غالباً 5.5 فیصد سے 6 فیصد کے درمیان ہوگی، حالانکہ سیلاب کے باعث خوراک کی قیمتوں میں کچھ اضافہ ضرور ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ مہنگائی کا اثر ابتدائی خدشات کے برعکس کم رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رول اوور ہفتہ ختم ہو چکا ہے، لہٰذا توقع ہے کہ مارکیٹ میں تازہ سرمایہ کاری کا رجحان برقرار رہے گا۔

اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے سعد حنیف نے پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں جاری تیزی کو مارکیٹ میں موجود غیر معمولی لیکویڈیٹی کا نتیجہ قرار دیا۔

انہوں نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مارکیٹ میں مقامی سطح پر سرمایہ وافر مقدار میں موجود ہے اور فنڈز و ادارے محدود متبادل سرمایہ کاری مواقع کے پیش نظر اپنی رقوم ایکویٹیز میں منتقل کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاشی منظرنامہ عمومی طور پر مثبت ہے اور آئندہ مہینوں میں شرح سود میں مزید کمی کی توقعات سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید تقویت دے رہی ہیں۔

سعد حنیف کے مطابق حالیہ عرصے میں کارپوریٹ آمدنی میں خاص طور پر بینکاری، ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن ( ای اینڈ پیز) اور فرٹیلائزر کے شعبوں میں استحکام دیکھا گیا ہے جو سرمایہ کاروں کو پرکشش ویلیوایشنز اور منافع بخش ڈیویڈنڈ ییلڈ فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے ایک اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی نے عالمی سطح پر پاکستان سے متعلق تصوراتی تبدیلی پیدا کی ہے: اب پاکستان کو صرف ایک ہائی رسک مارکیٹ کے طور پر نہیں بلکہ ایک مضبوط، پائیدار اور اسٹریٹجک کھلاڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس تصوراتی تبدیلی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مستحکم کیا ہے اور مجموعی سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنایا ہے۔

یاد رہے کہ پیر کو کے ایس ای 100 انڈیکس 1,590.68 پوائنٹس (0.98 فیصد) کے اضافے سے 163,847.69 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

منگل کے روز ایشیائی حصص میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ سونے کی قیمتیں نئی بلند ترین سطحوں کی جانب بڑھتی رہیں۔ عالمی مارکیٹوں میں یہ رجحان ایسے وقت میں سامنے آیا جب سرمایہ کار امریکا میں ممکنہ حکومتی شٹ ڈاؤن کے اثرات کا اندازہ لگا رہے ہیں، جس سے اس ہفتے جاری ہونے والے اہم روزگار کے اعداد و شمار میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ حکومت شٹ ڈاؤن کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک مخالفین کے درمیان بجٹ مذاکرات میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی۔

اگر حکومت نے شٹ ڈاؤن کرلیا تو امریکی محکمہ محنت کی جانب سے جاری کیے جانے والے کلیدی روزگار کے اعداد و شمار روک دیے جائیں گے، جس کے باعث سرمایہ کاروں کی توجہ آج جاری ہونے والی جولٹس رپورٹ ( جاب اوپننگ اینڈ لیبر ٹرن اوور سروے) پر مرکوز ہو گئی ہے، جو اگست کے لیے ملازمت کے نئے مواقع سے متعلق ہوگی۔

دریں اثناء ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا وسیع ترین انڈیکس ابتدائی تجارتی اوقات میں 0.5 فیصد بلند رہا اور رواں ماہ کے لیے اب تک 5.6 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے، جو گزشتہ ایک سال میں سب سے نمایاں کارکردگی ہوگی۔

اس کے برعکس جاپان کا نکئی انڈیکس 0.3 فیصد کمی کے ساتھ مسلسل تیسرے روز بھی منفی زون میں بند ہوا۔

Comments

Comments are closed.