یوکرین کو ٹوماہاک میزائل دینے پر غور کررہےہیں ، امریکی نائب صدر
نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ یوکرین کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹوماہاک میزائل فراہم کرنے کی درخواست پر غور کر رہا ہے۔ اتوار کے روز ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام یوکرین کی روسی افواج کو پیچھے دھکیلنے کی کوششوں میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
وینس نے فاکس نیوز سنڈے کو بتایا کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے درخواست کی ہے کہ وہ یورپی اتحادیوں کو ٹوماہاک میزائل فراہم کرے، تاکہ وہ انہیں یوکرین منتقل کر سکیں۔ وینس کے مطابق اس معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی حتمی فیصلہ کریں گے۔
انہوں نے کہا ہم یقینی طور پر یورپی ممالک کی جانب سے آنے والی متعدد درخواستوں پر غور کر رہے ہیں۔
ٹوماہاک میزائل کی رینج تقریباً 2,500 کلومیٹر (1,550 میل) ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ ماسکو جیسے روسی اہداف کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ روس کی جانب سے ایسے کسی بھی اقدام کو یقینی طور پر جنگ میں خطرناک شدت کے اضافے کے طور پر دیکھا جائے گا۔
ماضی میں ٹرمپ نے یوکرین کو ایسے میزائل فراہم کرنے کی مخالفت کی تھی، تاہم اب وہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی جانب سے امن معاہدے سے انکار پر مایوسی کا اظہار کر چکے ہیں۔
یوکرین کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی کیتھ کیلوگ نے عندیہ دیا ہے کہ ٹرمپ اب یوکرین کو روس کے داخلی علاقوں تک حملہ کرنے کی صلاحیت دینے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا میرے خیال میں اب جواب ہاں میں ہے۔


Comments
Comments are closed.