اپٹما کی انڈیکیٹو جنریشن کیپیسٹی ایکسپنشن پلان کی موجودہ شکل میں منظوری کی شدید مخالفت
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے اِنڈیکیٹو جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان (آئی جی سی ای پی) 2025–2035 کی موجودہ شکل میں منظوری کی شدید مخالفت کی ہے۔
ایسوسی ایشن نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) پر زور دیا کہ وہ اعلیٰ بین الاقوامی اور قومی ماہرینِ معیشت اور ماہرینِ شماریات کی ایک خصوصی ٹیم مقرر کرے تاکہ زیادہ مضبوط، شعبے کے لیے موزوں ڈیمانڈ فورکاسٹنگ ماڈل تیارکیا جاسکے۔
نیپرا کے رجسٹرار کو لکھے گئے ایک خط میں اپٹما کے سیکریٹری جنرل شاہد ستار نے اتھارٹی کے 28 اگست 2025 کے عوامی نوٹس کا حوالہ دیا جس میں انٹیگریٹڈ سسٹم پلان (ISP) 2025-2035 پر رائے طلب کی گئی تھی۔
اپٹما کا جواب دو اہم حصوں پر مشتمل ہے: (i) ڈیمانڈ فورکاسٹنگ کے طریقہ کار پر بنیادی تنقید، جس کے بارے میں اس کا موقف ہے کہ یہ پوری آئی جی سی ای پی کی ساکھ کو کمزور کرتی ہے؛ اور (ii) وسیع تر مشاہدات اور ترجیحات کا ایک مجموعہ جنہیں آئی ایس پی/آئی جی سی ای پی کو قومی توانائی کی منصوبہ بندی کو معاشی حقائق کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے حل کرنا چاہیے، خاص طور پر سستی اور مسابقتی بجلی نرخ کی فوری ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے۔
اپٹما کا مؤقف ہے کہ موجودہ آئی جی سی ای پی ایک حد سے زیادہ سادہ اور خامیوں سے بھرپور ریگریشن ماڈل پر انحصار کرتا ہے جو گرڈ کی بجلی کی طلب کو مجموعی معاشی اشاریوں جیسے جی ڈی پی اور آبادی میں اضافے کے ساتھ جوڑتا ہے، اس کے مطابق یہ ماڈل اس مفروضے پر قائم ہے کہ بجلی کی طلب معاشی اور آبادی میں اضافے کے ساتھ تناسب میں بڑھے گی۔
تاہم یہ طریقہ کار اُن متبادل اثرات کو نظرانداز کرتا ہے جو کیپٹو پاور (گیس یا فرنس آئل جنریٹرز)، چھتوں پر نصب سولر سسٹمز (یا ڈسٹری بیوٹڈ سولر)، گیس سے چلنے والے بوائلرز، سولر واٹر ہیٹرز، الیکٹرک چولہے اور دیگر غیرمرکزی توانائی کے ذرائع سے پیدا ہوتے ہیں، جو بڑھتے ہوئے پیمانے پر گرڈ بجلی کے متبادل کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔
ان عوامل کو نظرانداز کرنے کے باعث ماڈل ان کے اثرات کو غلط طور پر بقیہ (Residual) میں شامل کر دیتا ہے، اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے کا زیادہ تر حصہ بڑھتی گرڈ کھپت سے جوڑ دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گرڈ کی طلب میں اضافے کا تخمینہ منظم طور پر ضرورت سے زیادہ ظاہر کیا جاتا ہے ۔
اس کے معاشی ماڈلنگ اور شماریاتی اثرات درج ذیل ہیں:(i) اینڈوجینیٹی کا مسئلہ: جب متبادل ذرائع کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو ان کے اثرات ایرر ٹرم میں شامل ہو جاتے ہیں۔ چونکہ جی ڈی پی اور آبادی میں اضافہ بھی کیپٹو پاور اور سولر سمیت دیگر نان-گرڈ توانائی ذرائع کو اپنانے کو فروغ دیتا ہے، اس لیے ایرر ٹرم ریگریسرز (GDP/Population) کے ساتھ منسلک ہو جاتا ہے۔(ii) اینڈوجینیٹی کا یہ تعلق جانبدار اور غیر مستقل تخمینے پیدا کرتا ہے (اعدادی و شماریاتی معنوں میں)۔ اس طرح جی ڈی پی/آبادی کے لحاظ سے گرڈ طلب کی لچک (Elasticity) ضرورت سے زیادہ ظاہر کی جاتی ہے۔
اپٹما نے مزید کہا کہ پاکستان کے تناظر میں، جہاں نان-گرڈ توانائی کے ذرائع تیزی سے بڑھ رہے ہیں، یہ ساختی جانبداری مستقبل میں گرڈ کی طلب کے منظم طور پر ضرورت سے زیادہ تخمینے کا باعث بنتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.