BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)

امریکا نے اچانک اپنے کچھ سینئر سفارتکاروں کو شام سے متعلق ذمہ داریوں سے ہٹا دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکا شام کے کرد اتحادیوں کو صدر احمد الشراع کی حکومت میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اپنی شام سے متعلق پالیسی میں بڑی تبدیلیاں لانے والا ہے۔

یہ تبدیلی سیریا ریجنل پلیٹ فارم(ایس آر پی ) میں کی گئی ہے جو استنبول میں قائم امریکا کا شام کے لیے عملی مشن تصور کیا جاتا ہے۔ ہٹائے گئے تمام اہلکار شام کے لیے خصوصی امریکی ایلچی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی ٹام بیرک کو رپورٹ کرتے تھے۔ بیرک مئی میں تعینات ہوئے اور وہ خطے میں ایسی پالیسی آگے بڑھا رہے ہیں جس کا مقصد شامی ریاست کو صدر احمد الشراع کی قیادت میں متحد کرنا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق متعدد اہلکاروں کو اچانک نوٹس دیےگئے۔امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ محض تنظیمی تبدیلی کا حصہ ہے اور اس کا براہِ راست تعلق پالیسی اختلافات سے نہیں،تاہم مغربی سفارتکاروں کے مطابق برطرفیوں کی ایک بڑی وجہ ایس ڈی ایف (شامی جمہوری فورسز) اور صدر شراع کے حوالے سے مختلف نقطۂ نظر بھی ہے۔

ٹام بیرک مسلسل ایس ڈی ایف پر زور دے رہے ہیں کہ وہ معاہدے کی توثیق کریں جس کے تحت ان کے زیرِانتظام علاقے ریاستی کنٹرول میں لائے جائیں اور ایس ڈی ایف کو قومی سلامتی ڈھانچے میں شامل کیا جا سکےمگر ایس ڈی ایف قیادت اس دباؤ کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں اور وہ غیر مرکوز نظامِ حکومت کے حق میں ہیں، تاکہ خانہ جنگی کے دوران حاصل کی گئی خودمختاری برقرار رکھی جاسکے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ شام سے متعلق پالیسی پر کام مختلف مقامات سے معمول کے مطابق جاری ہے۔

Comments

Comments are closed.