امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کے روز برطانیہ کے اپنے بے مثال دوسرے سرکاری دورے کا باضابطہ آغاز کر رہے ہیں۔ ونڈسر کیسل میں شاہ چارلس اور شاہی خاندان کی جانب سے تاریخی پروٹوکول اور فوجی اعزازات کے ساتھ ان کا استقبال کیا جائے گا، جسے برطانیہ نے حالیہ یادداشت میں سب سے بڑا فوجی استقبالیہ قرار دیا ہے۔
شاہی محل کے ذرائع کے مطابق، ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا کے اعزاز میں توپوں کی سلامی، فوجی فلائی پاسٹ اور شاندار ضیافت کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ ملکہ الزبتھ ثانی کی آخری آرام گاہ سینٹ جارج چیپل میں پھولوں کی چادر بھی چڑھائیں گے۔
ٹرمپ، جو برطانوی شاہی خاندان کے کھلے مداح سمجھے جاتے ہیں، نے دورے سے قبل اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شاہ چارلس کے لیے محبت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: “آئی لو کنگ چارلس.”
برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹرمر اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان خصوصی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا اہم موقع قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اس دوران تجارتی معاہدوں میں بہتری، اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، ٹیرف پر بات چیت اور یوکرین کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون زیرِ غور ہوگا۔
بدھ کو زیادہ تر وقت شاہی تقاریب میں صرف ہوگا، تاہم جمعرات کو وزیرِاعظم کی دیہی رہائش گاہ چیقرز میں جغرافیائی سیاست اور عالمی سلامتی پر تفصیلی گفتگو متوقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دورہ شاہ چارلس کے لیے بھی اہم موقع ہے۔ مؤرخ انتھونی سیلڈن کے مطابق اگر سب کچھ اچھے انداز میں ہوا تو یہ ان کی حکمرانی کا سب سے اہم واقعہ ثابت ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب، مظاہروں کے خدشے کے باعث لندن اور ونڈسر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔


Comments
Comments are closed.