سمیڈا اور صنعت کاروں کا اشتراک، شکار و کھیلوں کی تلواروں کی صنعت کے فروغ پر اتفاق
اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) شکار،کھیلوں کی تلواریں اور اس سے متعلق اشیاء بنانے والے صنعت کاروں کی مدد کرے گی ،تاکہ اس شعبے کی برآمدات کو 13.5 ملین ڈالر سے بڑھا کر 100 ملین امریکی ڈالر تک پہنچایا جا سکے۔ یہ کام وزیراعظم اور معاون خصوصی برائے امورِ صنعت و تجارت کی قیادت میں کیا جائے گا۔
یہ یقین دہانی سمیڈا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سقراط امان رانا نے پیر کو سمیڈا کے ہیڈ آفس میں ہونے والی ملاقات میں کرائی۔ ملاقات میں ہنٹنگ اینڈ اسپورٹنگ نائفز،سورڈز اینڈ ایکسیسریز ایسوسی ایشن کے وفد نے شرکت کی جس کی قیادت ایسوسی ایشن کے چیئرمین ندیم احمد وڑائچ نے کی۔ اس موقع پر سمیڈا کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔
سی ای او سمیڈا نے کہا کہ موجودہ حکومت اور وزیرِاعظم کا بنیادی ایجنڈا ایس ایم ایز کے فروغ کے ذریعے برآمدات اور روزگار کے مواقع بڑھانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سمیڈا اس مقصد کے حصول کے لیے بھرپور کوششیں کررہا ہے اور شکار و کھیلوں کی تلواریں،چاقو بنانے والے شعبے کی برآمدات میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا۔ انہوں نے ایسوسی ایشن کے ساتھ اشتراکِ عمل پر رضامندی ظاہر کی تاکہ اس شعبے کے لیے سیکٹر پروفائل، کلسٹر ڈاکیومنٹری، ای کامرس ٹریننگ پروگرامز اور پیداواری عمل میں بہتری لائی جاسکے۔
سقراط رانا نے بتایا کہ سمیڈا نے مختلف اقدامات کیے ہیں جن میں ای سپورٹ پروگرام اور ایکسپورٹ ریڈینس پروگرام شامل ہیں جو ایس ایم ای سیکٹر کو قومی برآمدات میں زیادہ حصہ ڈالنے کے قابل بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرامز شکار اور کھیلوں کی تلواریں بنانے والے شعبے کے لیے بھی یکساں مفید ہوں گے۔
اس سے قبل ندیم احمد وڑائچ نے پریزنٹیشن کے دوران بتایا کہ 2022 میں پاکستان کا عالمی تجارت میں شکار اور کھیلوں کے چاقوؤں کے شعبے میں حصہ 0.53 فیصد تھا، جو 2024 میں کم ہو کر 0.41 فیصد رہ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی مدد سے یہ حصہ کئی گنا بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاونت سے شکار اور کھیلوں کے چاقوؤں کی برآمدات کو 13.5 ملین امریکی ڈالر سے بڑھا کر 100 ملین امریکی ڈالر تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.