امریکی قدامت پسند رہنما اور ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے صدر چارلی کرک کو یوٹاہ میں ایک یونیورسٹی تقریب کے دوران فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ امریکی تفتیشی اداروں نے چارلی کرک کے قتل کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے مشتبہ شخص کی تصاویر اور ویڈیو جاری کر دی ہیں اور جائے وقوعہ سے برآمد ہونے والی رائفل کو اصل ہتھیار قرار دیا جا رہا ہے۔
ایف بی آئی اور ریاستی حکام نے بتایا کہ مشتبہ شخص نے یونیورسٹی کی عمارت کی سیڑھیوں کے ذریعے چھت پر چڑھ کر فائرنگ کی، جس کے بعد وہ چھت سے اتر کر قریبی جنگل کی طرف چلا گیا۔ اسی علاقے سے ایک ہائی پاورڈ بولٹ ایکشن رائفل ملی، جسے قتل میں استعمال ہونے والا ہتھیار تصور کیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی کیمروں سے حاصل شدہ ویڈیوز اور تصاویر میں مشتبہ شخص کو کالے کپڑوں، ٹوپی اور چشمہ پہنے دیکھا گیا، جبکہ ریاستی حکام کی جانب سے جاری دوسری تصاویر میں اس کا بیگ اور جوتے واضح نظر آتے ہیں۔ یوٹاہ کے ڈپارٹمنٹ آف پبلک سیفٹی کے کمشنر بو میسن کے مطابق ملزم نے چھت سے اترتے وقت ہتھیلی کے نشانات اور ڈی این اے شواہد بھی چھوڑے ہیں جو تحقیقات کے لیے اہم ہیں۔
ایف بی آئی نے قاتل کی گرفتاری میں مدد دینے والی اطلاع پر 1 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔ اب تک عوام کی جانب سے 7 ہزار سے زائد معلومات موصول ہوئی ہیں جبکہ 200 سے زائد انٹرویوز کیے جا چکے ہیں۔ یوٹاہ کے گورنر اسپینسر کاکس نے عوام سے مزید تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کیس کو حل کرنے کے لیے عوامی مدد ناگزیر ہے۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کش پٹیل بھی تفتیشی بریفنگ میں شریک ہوئے، تاہم انہوں نے میڈیا سے گفتگو نہیں کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ جمع شدہ شواہد اور عوامی معلومات کی بنیاد پر تحقیقات میں نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے اور جلد نتائج سامنے آئیں گے۔


Comments
Comments are closed.