اسرائیلی حملوں کے بعد یکجہتی کا اظہار، وزیراعظم شہباز شریف قطر پہنچ گئے
- وزیراعظم کا دورہ قطر پاکستان کی قطر کی سلامتی اور خودمختاری سے متعلق غیر متزلزل حمایت کا مظہر ہے، دفتر خارجہ
- وزیراعظم شہباز شریف کی امیرِ قطر سے ملاقات، اسرائیلی جارحیت کے خلاف مسلم اُمہ کے اتحاد پر زور
وزیراعظم شہباز شریف جمعرات کو قطر کے دورے پر دوحہ پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے رہائشی علاقوں پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد قطر کے ساتھ یکجہتی اور علاقائی اتحاد کے عزم اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم کے دفتر (پی ایم او) سے جاری بیان کے مطابق دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے 9 ستمبر کو دوحہ پر اسرائیلی حملے کی شدید ترین مذمت کی اور اسے قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح اور کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت اور عوام اس بزدلانہ حملے پر سخت رنجیدہ ہیں، جو برادر اسلامی ملک قطر کے خلاف بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
وزیراعظم نے قطر کی قیادت کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان اس بلا جواز اشتعال انگیزی کے خلاف مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کرتا ہے۔
انہوں نے اسرائیلی حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے زور دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی یہ بے لگام جارحیت روکی جانی چاہیے، اور ایسے حالات میں مسلم اُمہ کے اتحاد کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔
انہوں نے غزہ میں قیامِ امن کے لیے قطر کے مصالحتی کردار کو سراہا، اور کہا کہ اسرائیل کے ایسے جارحانہ اقدامات کا مقصد علاقائی استحکام کو سبوتاژ کرنا اور جاری سفارتی و انسانی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ قطر کی درخواست پر پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال پر غور کیا جا سکے۔
انہوں نے 15 ستمبر کو قطر کی میزبانی میں ہونے والے غیر معمولی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کو اجلاس کی شراکت داری اور مشترکہ میزبانی کے لیے اپنی آمادگی سے آگاہ کر دیا ہے۔
اسی دوران وزیراعظم شہباز شریف نے امیرِ قطر کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے رواں سال کے آغاز میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔
وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق امیرِ قطر نے وزیراعظم کے اس بصیرت افروز اور برادرانہ جذبے کو سراہا کہ وہ اس نازک وقت میں یکجہتی کے اظہار کے لیے دوحہ تشریف لائے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن کے فروغ، بین الاقوامی قوانین کے تحفظ اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کے لیے قریبی روابط اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
قبل ازیں ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطح وفد بھی ہے، جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ دورہ قطر کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے عزم کا مظہر ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب اسرائیل نے پہلی بار قطری سرزمین پر فضائی حملہ کیا، جس میں دوحہ کے ویسٹ بے علاقے میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں مبینہ طور پر حماس کے رہنما مقیم تھے۔ اس حملے کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی۔
قطر نے اس حملے کو بزدلانہ اور مجرمانہ کارروائی اور بین الاقوامی قانون اور خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
منگل کو وزیراعظم شہباز شریف نے دوحہ پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی تھی اور اسے خودمختاری کی کھلی پامالی اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا تھا۔
وزیراعظم نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ٹیلی فونک گفتگو میں قطر کی قیادت، شاہی خاندان اور عوام کے ساتھ گہری ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ اسرائیلی افواج کی غیر قانونی اور گھٹیا بمباری ایک سفاکانہ اقدام ہے جو اس کی قیادت کی اس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو اپنے مذموم مقاصد کے اندھے تعاقب میں کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔

Comments
Comments are closed.