BR100 Increased By (0.71%)
BR30 Increased By (0.54%)
KSE100 Increased By (0.64%)
KSE30 Increased By (0.68%)
BAFL 57.49 Increased By ▲ 0.29 (0.51%)
BIPL 27.25 Increased By ▲ 0.36 (1.34%)
BOP 34.25 Increased By ▲ 0.56 (1.66%)
CNERGY 10.82 Increased By ▲ 0.21 (1.98%)
DFML 18.30 Increased By ▲ 0.25 (1.39%)
DGKC 209.71 Decreased By ▼ -0.19 (-0.09%)
FABL 101.01 Increased By ▲ 2.06 (2.08%)
FCCL 54.80 Increased By ▲ 1.06 (1.97%)
FFL 16.68 Increased By ▲ 0.22 (1.34%)
GGL 25.40 Increased By ▲ 1.58 (6.63%)
HBL 303.97 Increased By ▲ 1.55 (0.51%)
HUBC 220.56 Increased By ▲ 1.62 (0.74%)
HUMNL 10.58 Increased By ▲ 0.04 (0.38%)
KEL 7.40 Increased By ▲ 0.12 (1.65%)
LOTCHEM 29.75 Increased By ▲ 0.10 (0.34%)
MLCF 95.76 Decreased By ▼ -0.60 (-0.62%)
OGDC 318.47 Increased By ▲ 0.25 (0.08%)
PAEL 42.90 Increased By ▲ 1.13 (2.71%)
PIBTL 16.85 Increased By ▲ 0.04 (0.24%)
PIOC 298.00 Increased By ▲ 1.38 (0.47%)
PPL 221.40 Increased By ▲ 1.23 (0.56%)
PRL 51.50 Increased By ▲ 2.45 (4.99%)
SNGP 105.80 Decreased By ▼ -0.33 (-0.31%)
SSGC 28.33 Decreased By ▼ -0.81 (-2.78%)
TELE 8.88 Increased By ▲ 0.06 (0.68%)
TPLP 12.85 Increased By ▲ 0.34 (2.72%)
TRG 59.80 Decreased By ▼ -0.42 (-0.7%)
UNITY 10.59 Increased By ▲ 0.57 (5.69%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.02 (1.63%)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ ان کی انتظامیہ بھارت کے ساتھ تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ جلد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بات کریں گے۔ ان کے اس بیان کو کئی ہفتوں کی سفارتی کشیدگی کے بعد ممکنہ تجارتی معاہدے کی امید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ٹرمپ نے پرامید لہجے میں کہا کہ وہ آنے والے ہفتوں میں مودی سے گفتگو کے منتظر ہیں اور پُراعتماد ہیں کہ دونوں عظیم ممالک کے لیے ایک کامیاب نتیجے پر پہنچنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ دوسری جانب، مودی نے بھی بدھ کو سوشل میڈیا پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اور نئی دہلی قریبی دوست اور فطری شراکت دار ہیں، اور دونوں ملکوں کی ٹیمیں جلد از جلد مذاکرات مکمل کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

ان بیانات کے بعد بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں 0.5 فیصد سے زائد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ابھی حتمی معاہدے کی توقع قبل از وقت ہوگی کیونکہ ماضی میں ٹرمپ نے بھارت پر ٹیرف دگنے کر دیے تھے جس سے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ مزید برآں، ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے حالیہ ہفتوں میں بھارت کو روسی تیل خریدنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ادھر، بھارتی وزیراعظم مودی نے حال ہی میں سات سال بعد چین کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات کی اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ قریبی رابطے میں بھی دکھائی دیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اشارے واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں نئے موڑ کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن فی الحال مزید عملی اقدامات کا انتظار کرنا ہوگا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ستمبر میں دونوں ملکوں کے تجارتی حکام بالمشافہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے دورے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اگست میں امریکی وفد کا طے شدہ دورہ رکاوٹوں کے باعث منسوخ ہو گیا تھا۔ 2024 میں امریکا اور بھارت کی دوطرفہ اشیائی تجارت 129 ارب ڈالر رہی، جس میں امریکا کو 45.8 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا۔

Comments

Comments are closed.