ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی منگل کو مصر میں اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی سے ملاقات کریں گے، جو دو ماہ قبل تہران کی جانب سے تعاون معطل کرنے کے بعد پہلی ملاقات ہوگی۔
ایرانی خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق قاہرہ کے دورے کے دوران آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ ملاقات ہوگی تاکہ ایران اور ادارے کے درمیان رابطے کے ایک نئے پروٹوکول پر مذاکرات کو حتمی شکل دی جائے۔
مصر کی وزارت خارجہ نے بھی اس ملاقات کی تصدیق کی ہے جس میں مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی، عباس عراقچی اور رافائل گروسی شریک ہوں گے۔
یہ ملاقات ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان اس وقت ہو رہی ہے جب جون میں اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد 12 روزہ جنگ کے دوران تہران نے تعاون معطل کر دیا تھا۔ تہران نے ادارے پر حملوں کی مذمت نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ مستقبل کا تعاون نئی شکل اختیار کرے گا۔
گزشتہ ماہ آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں نے مختصر طور پر بوشہر ایٹمی پلانٹ میں ایندھن کی تبدیلی کی نگرانی کی، لیکن فردو اور نطنز سمیت دیگر اہم تنصیبات تک رسائی نہیں دی گئی۔
دوسری جانب برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران کے خلاف یو این پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کے اقدامات شروع کیے ہیں اور ”اسنیپ بیک“ میکانزم متحرک کرنے کی وارننگ دی ہے، جسے ایران نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مزید ردعمل کی دھمکی دی ہے۔


Comments
Comments are closed.