تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کے اتحاد اوپیک پلس کے اہم اجلاس سے قبل غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے کیونکہ سعودی عرب، روس اور دیگر چھ ممالک پر مشتمل رضاکار آٹھ (وی ایٹ) کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیداوار میں اضافے کا امکان زیر غور ہے۔
یہ اجلاس اس وقت ہورہا ہے جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مسلسل دباؤ میں ہیں اور طلب میں کمی کے خدشے کے باعث نرخ 65 سے 70 ڈالر فی بیرل تک گر چکے ہیں، جو اس سال اب تک 12 فیصد کمی ظاہر کرتے ہیں۔
اوپیک پلس نے گزشتہ برسوں میں پیداوار میں تقریباً 60 لاکھ بیرل یومیہ کمی کی تھی تاکہ قیمتوں کو سہارا دیا جا سکے۔ تاہم اپریل سے وی ایٹ ممالک — سعودی عرب، روس، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت، قازقستان، الجزائر اور عمان — نے اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے مارکیٹ میں حصہ دوبارہ حاصل کرنے پر توجہ دی اور پیداوار میں بتدریج اضافہ شروع کردیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ گزشتہ ہفتے تک امکان یہی تھا کہ اکتوبر کے لیے موجودہ سطح برقرار رکھی جائے گی، لیکن اب اس بات کی بازگشت ہے کہ کوٹے میں تبدیلی کی جا سکتی ہے، جو اس گروپ کی مارکیٹ شیئر حاصل کرنے کی سنجیدہ کوشش کو ظاہر کرے گا، چاہے قیمتیں 60 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے کیوں نہ چلی جائیں۔
اوپیک کے اپنے اعداد و شمار بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آئندہ سہ ماہیوں میں مارکیٹ مزید تیل کی آمد برداشت کر سکتی ہے، جس کے باعث ایک اور مرحلے میں پیداوار کم کرنے پر بھی غور ہو سکتا ہے۔
ادھر روس یوکرین جنگ اور امریکا-روس تعلقات بھی عالمی منڈی پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر روسی تیل خریدنے کے باعث اضافی ٹیرف عائد کیے ہیں اور یورپی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روسی تیل کی خریداری بند کریں۔
ماہرین کے مطابق اگر یورپ روسی تیل کی درآمد کم کرتا ہے تو اوپیک پلس کے ممالک کو مارکیٹ میں مزید جگہ مل سکتی ہے، تاہم روس اپنے جنگی اخراجات پورے کرنے کے لیے زیادہ قیمتوں کو برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔


Comments
Comments are closed.