امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے بعض تجارتی شراکت داروں کو پیر سے ٹیرف میں استثنیٰ دینے کا اعلان کیا ہے، بشرطیکہ وہ صنعتی برآمدات جیسے نکل، سونا اور دیگر دھاتوں کے ساتھ ساتھ دواسازی کے مرکبات اور کیمیکلز پر معاہدے کر لیں۔
ٹرمپ، جو اپنے عہدے کے ابتدائی سات ماہ میں عالمی تجارتی نظام کو ازسرنو ترتیب دینے، امریکی تجارتی خسارے کو کم کرنے اور مذاکرات میں رعایتیں لینے کے لیے بڑے پیمانے پر ٹیرف میں اضافہ کر چکے ہیں، اب اس نئے اقدام کے ذریعے رعایت دینے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔
تازہ حکم نامے میں 45 سے زائد کیٹیگریز کی نشاندہی کی گئی ہے جن پر ہم خیال شراکت داروں کے ساتھ فریم ورک معاہدے کے بعد درآمدی ٹیرف ختم کر دیا جائے گا۔ یہ رعایت اُن ممالک کے لیے ہو گی جو ٹرمپ کے باہمی ٹیرف اور ڈیوٹیز کو کم کرنے پر رضامند ہوں۔
یہ حکم نامہ امریکا کے موجودہ فریم ورک معاہدوں، مثلاً جاپان اور یورپی یونین کے ساتھ کیے گئے معاہدوں، سے ہم آہنگی بھی پیدا کرتا ہے۔ استثنیٰ پیر کو امریکی وقت کے مطابق رات 12:01 بجے سے نافذالعمل ہوں گے۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ ٹیرف کم کرنے کی آمادگی کا انحصار اس بات پر ہے کہ کسی ملک کی تجارتی رعایتیں امریکا کے لیے کس قدر اہم اور قیمتی ہیں اور یہ امریکی قومی مفادات سے کس طرح مطابقت رکھتی ہیں۔
حکم نامے میں ان اشیاء کا احاطہ کیا گیا ہے جو امریکا میں قدرتی طور پر پیدا نہیں ہوتیں یا مقامی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی مقدار میں دستیاب نہیں۔ ان میں اسٹین لیس اسٹیل اور برقی گاڑیوں کی بیٹریوں میں استعمال ہونے والا نکل، عام دواؤں میں استعمال ہونے والے مرکبات، اینستھیٹک لیڈوکین اور تشخیصی ٹیسٹ ری ایجنٹس شامل ہیں۔
اس کے علاوہ سونے کی مختلف اقسام، گریفائٹ، نیوڈیمیم میگنیٹس، ایل ای ڈیز، اور کچھ زرعی مصنوعات، ہوائی جہاز کے پرزے اور غیر پیٹنٹ شدہ دواسازی کی اشیاء بھی شامل ہیں۔ حکم نامے کے تحت پلاسٹک اور پولی سیلیکان پر موجود پرانے استثنیٰ ختم کر دیے گئے ہیں، جو سولر پینلز کی تیاری کا بنیادی جزو ہے۔
یہ اقدام امریکا کی تجارتی حکمت عملی میں ایک نئی جہت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔


Comments
Comments are closed.