امریکا سے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان پاکستان پہنچنا شروع
امریکہ نے اپنی آرمی سینٹرل کمانڈ (یو ایس آر سینٹ) کے ذریعے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان بھیجنا شروع کردیا۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان میں کل چھ ریلیف پروازیں پہنچنے کا شیڈول ہے جو ضروری اشیاء بشمول خیمے، پانی نکالنے کے پمپ اور جنریٹرز لے کر آئیں گی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پہلی پرواز ہفتے (آج ) کو پہنچی،اس موقع پر امریکی چارج ڈی افیئرز نٹالی اے بیکر اور کمانڈر یو ایس آر سینٹ لیفٹیننٹ جنرل پیٹرک فرینک بھی موجود تھے،انہوں نے ریلیف سامان باضابطہ طور پر پاک فوج کے حوالے کیا۔
پہلی پرواز ہفتے کو پہنچی، امدادی سامان کی آمد کے موقع پر امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر اور کمانڈر یو ایس آر سینٹ لیفٹیننٹ جنرل پیٹرک فرینک بھی موجود تھے۔انہوں نے امدادی سامان باضابطہ طور پر پاک فوج کے حوالے کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق امدادی سامان پاک فوج کے فلڈ ریلیف کیمپس کے ذریعے متاثرین سیلاب میں تقسیم کیا جائے گا۔
شدید مون سون کے موسم اور بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کی وجہ سے رواں سال خطے میں زبردست تباہی ہوئی، جس کے نتیجے میں پاکستان میں 880 سے زائد افراد جاں بحق اور 12 لاکھ سے زائد متاثر ہوئے۔

امریکی وفد نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) میں امریکی ڈیزاسٹر رسپانس گروپ کے ساتھ منعقدہ ایک مشاورتی اور انٹرایکٹو اجلاس میں بھی حصہ لیا۔ وفد نے اسلام آباد میں دو روزہ مشاورتی اجلاس کے پہلے دن شرکت کی، جبکہ دوسرے دن کی بریفنگ میں ایشیا کے ڈیزاسٹر ماہر ایوانا ووکو اور امریکی محکمہ خارجہ کی ان کی ٹیم نے حصہ لیا۔
چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وفد کو این ای او سی کی جدید صلاحیتوں، خطرات اور کمزوریوں سے نمٹنے کے اقدامات، ابتدائی انتباہی نظام اور رسک کمیونیکیشن کے ذریعے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے طریقہ کار، مربوط ریلیف اور جوابدہی کے اقدامات، پیشگی اقدامات، اور بین الاقوامی ریلیف میں این ڈی ایم سے کے کردار اور عالمی رابطوں کے بارے میں بریف کیا۔
بریفنگ میں جامع بین الاقوامی سیمولیشن ایکسرسائزز (سی آئی ایس ای) پر بھی روشنی ڈالی گئی، جو غیر ملکی اور علاقائی شراکت داروں کو شامل کر کے آفات کے خلاف مضبوط مزاحمت بڑھانے میں مدد دیتی ہیں۔ گفتگو میں رسک فنانسنگ، ہنگامی فنڈز اور انشورنس کے ذریعے تیز بحالی، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مربوط سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز اور ابتدائی انتباہی نظام کی کامیابیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس نے 2025 کے سیلاب کے دوران ہزاروں افراد کو خود سے محفوظ مقام پر منتقل ہونے میں مدد دی اور جانی نقصان کو کم کیا۔

امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے این ڈی ایم اے کے جدید ڈیزاسٹر مینجمنٹ فریم ورک کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستان کا ٹیکنالوجی کا فعال استعمال اور CISE کے ذریعے بین الاقوامی تعاون خطے میں آفات کے خلاف مضبوط مزاحمت کی ایک مثال قائم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی ریلیف سرگرمیوں، خاص طور پر 2025 کے سیلاب کے ردعمل میں، لاجسٹک سپورٹ، تکنیکی مہارت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر معاونت کے لیے پرعزم ہے۔

انٹرایکٹو مشاورتی اجلاس کے دوران این ڈی ایم اے اور امریکی ڈیزاسٹر رسپانس ماہرین نے بہترین عملی تجربات کا تبادلہ کیا، تکنیکی اوزار کو ہم آہنگ کیا اور مشترکہ ردعمل کے پروٹوکولز کو بہتر بنایا تاکہ تعاون کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔
لیفٹیننٹ جنرل فرینک نے ین ڈی ایم اے کے پیشگی اقدامات اور این ای او سی کے اہم کردار کی تعریف کی اور ڈیلگیشن نے موسمیاتی چیلنجز کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر علاقائی مزاحمت کو مضبوط بنانے کے لیے ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن (DRR) اور CISE میں تعاون گہرا کرنے کے عزم کو دہرایا۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت اور عوام آزمائش کی گھڑی میں متاثرین سیلاب کے ساتھ کھڑے ہونے پر امریکی حکومت اور افواج کے شکر گزار ہیں۔


Comments
Comments are closed.