اگست میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 3 فیصد ریکارڈ
- سی پی آئی ریڈنگ حکومت اور مارکیٹ کی توقعات سے کم رہی
پاکستان کی مہنگائی بڑھنے کی سالانہ شرح اگست 2025 میں 3 فیصد رہ گئی، جو جولائی 2025 کے مقابلے میں کم ہے جب افراط زر 4.1 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔ یہ اعداد و شمار پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) نے پیر کو جاری کیے۔
ماہانہ بنیاد پر، اگست 2025 میں افراطِ زر میں 0.6 فیصد کمی ہوئی، جبکہ گزشتہ ماہ میں یہ 2.9 فیصد بڑھا تھا۔ اگست 2024 میں یہ اضافہ 0.4 فیصد تھا۔
جولائی تا اگست مالی سال 2025 کے دوران کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) افراطِ زر کی اوسط شرح 3.53 فیصد رہی، جو کہ مالی سال 2024 کے پہلے دوماہ میں10.36 فیصد تھی۔
پاکستان میں افراطِ زر گزشتہ برسوں میں ایک بڑا اور مسلسل اقتصادی مسئلہ رہا ہے۔ مئی 2023 میں سی پی آئی افراطِ زر کی شرح 38 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچی تھی، تاہم اس کے بعد سے یہ بتدریج نیچے آ رہی ہے۔
حالیہ سی پی آئی ریڈنگ حکومت کی توقعات سے بھی کم رہی ہے۔ وزارتِ خزانہ نے اپنی ماہانہ اقتصادی رپورٹ میں اندازہ لگایا تھا کہ اگست 2025 میں افراطِ زر 4 سے 5 فیصد کی حدود میں رہے گا۔
مزید برآں، یہ شرح کئی بروکریج ہاؤسز کی پیش گوئی سے بھی کم رہی۔ انسائٹ سیکیورٹیز نے اندازہ لگایا تھا کہ اگست میں ہیڈ لائن افراطِ زر 4.1 فیصد ریکارڈ ہوگی۔
انسائٹ سیکیورٹیز کے مطابق اگست 2025 میں ہیڈ لائن افراطِ زر کا تخمینہ 4.1 فیصد ہے، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 9.6 فیصد اور گزشتہ ماہ 4.1 فیصد تھا۔ ماہانہ بنیاد پر، افراطِ زر میں 0.4 فیصد اضافہ متوقع تھا، جو غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے تھا، تاہم بجلی کے نرخوں میں کمی اور ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی نے اس اثر کو زائل کر دیا۔
شہری و دیہی افراطِ زر
پی بی ایس کے مطابق اگست 2025 میں شہری افراطِ زر سالانہ بنیاد پر 3.4 فیصد رہا، جو جولائی میں 4.4 فیصد اور اگست 2024 میں 11.7 فیصد تھا۔ ماہانہ بنیاد پر شہری افراطِ زر میں 0.7 فیصد کمی ہوئی، جو جولائی میں 3.4 فیصد کا اضافہ اور اگست 2024 میں 0.3 فیصد کا اضافہ تھا۔
دیہی افراطِ زر اگست 2025 میں سالانہ بنیاد پر 2.4 فیصد رہا، جو جولائی میں 3.5 فیصد اور اگست 2024 میں 6.7 فیصد تھا۔ ماہانہ بنیاد پر دیہی افراطِ زر میں 0.5 فیصد کمی ہوئی، جبکہ جولائی میں 2.2 فیصد اور اگست 2024 میں 0.6 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔


Comments
Comments are closed.