BR100 Increased By (1.56%)
BR30 Increased By (1.52%)
KSE100 Increased By (1.33%)
KSE30 Increased By (1.4%)
BAFL 57.80 Increased By ▲ 0.60 (1.05%)
BIPL 27.40 Increased By ▲ 0.51 (1.9%)
BOP 34.48 Increased By ▲ 0.79 (2.34%)
CNERGY 10.92 Increased By ▲ 0.31 (2.92%)
DFML 18.41 Increased By ▲ 0.36 (1.99%)
DGKC 213.50 Increased By ▲ 3.60 (1.72%)
FABL 102.19 Increased By ▲ 3.24 (3.27%)
FCCL 54.80 Increased By ▲ 1.06 (1.97%)
FFL 16.76 Increased By ▲ 0.30 (1.82%)
GGL 24.23 Increased By ▲ 0.41 (1.72%)
HBL 305.75 Increased By ▲ 3.33 (1.1%)
HUBC 222.25 Increased By ▲ 3.31 (1.51%)
HUMNL 10.74 Increased By ▲ 0.20 (1.9%)
KEL 7.44 Increased By ▲ 0.16 (2.2%)
LOTCHEM 30.04 Increased By ▲ 0.39 (1.32%)
MLCF 97.70 Increased By ▲ 1.34 (1.39%)
OGDC 322.00 Increased By ▲ 3.78 (1.19%)
PAEL 42.81 Increased By ▲ 1.04 (2.49%)
PIBTL 17.21 Increased By ▲ 0.40 (2.38%)
PIOC 302.30 Increased By ▲ 5.68 (1.91%)
PPL 224.12 Increased By ▲ 3.95 (1.79%)
PRL 52.65 Increased By ▲ 3.60 (7.34%)
SNGP 107.90 Increased By ▲ 1.77 (1.67%)
SSGC 29.60 Increased By ▲ 0.46 (1.58%)
TELE 8.98 Increased By ▲ 0.16 (1.81%)
TPLP 12.95 Increased By ▲ 0.44 (3.52%)
TRG 60.69 Increased By ▲ 0.47 (0.78%)
UNITY 10.18 Increased By ▲ 0.16 (1.6%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.02 (1.63%)

وزیراعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہ اجلاس کے لیے تیانجن پہنچ گئے

وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف ہفتہ کو چین کے شمالی ساحلی شہر تیانجن پہنچے جہاں وہ 31 اگست سے یکم ستمبر 2025 تک جاری رہنے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ مملکت و حکومت کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔

ایس سی او سربراہ اجلاس چین کی میزبانی میں منعقد ہو رہا ہے جس نے سال 25-2024 کے لیے تنظیم کی صدارت سنبھالی ہوئی ہے۔ اجلاس میں 20 سے زائد عالمی رہنما شریک ہوں گے جن میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی شامل ہیں۔ بھارت کے وزیراعظم سات برس بعد پہلی مرتبہ چین پہنچے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اجلاس میں خطے اور دنیا کو درپیش اہم مسائل پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے اور اس بات پر زور دیں گے کہ تنظیم خطے میں تعاون، استحکام اور پائیدار ترقی کے فروغ میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرے۔

ایس سی او کا یہ اعلیٰ ترین فیصلہ ساز فورم سلامتی، سیاسی اور اسٹریٹجک سمت کا تعین کرتا ہے جبکہ ’ایس سی او پلس‘ اجلاس میں رکن ممالک کے علاوہ مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک کے سربراہان بھی شریک ہوں گے۔

وزیراعظم کی اجلاس کے موقع پر مختلف عالمی رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں جن میں تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ روانگی سے قبل اسحاق ڈار نے کہا کہ چین کے ساتھ پاکستان کی ہمہ موسمی اسٹریٹجک شراکت داری باہمی اعتماد پر مبنی ہے اور بیلٹ اینڈ روڈ سمیت صدر شی جن پنگ کے اقدامات خطے میں خوشحالی اور رابطوں کو فروغ دے رہے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.