BR100 Increased By (0.78%)
BR30 Increased By (1.02%)
KSE100 Increased By (0.5%)
KSE30 Increased By (0.51%)
BAFL 58.66 Increased By ▲ 0.22 (0.38%)
BIPL 25.51 Increased By ▲ 0.31 (1.23%)
BOP 34.34 Increased By ▲ 0.35 (1.03%)
CNERGY 8.12 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
DFML 20.98 Increased By ▲ 0.14 (0.67%)
DGKC 195.10 Increased By ▲ 2.13 (1.1%)
FABL 89.75 Decreased By ▼ -0.04 (-0.04%)
FCCL 53.51 Increased By ▲ 0.68 (1.29%)
FFL 18.10 Increased By ▲ 0.15 (0.84%)
GGL 19.50 Increased By ▲ 0.53 (2.79%)
HBL 286.10 Increased By ▲ 0.60 (0.21%)
HUBC 215.10 Increased By ▲ 0.72 (0.34%)
HUMNL 10.86 Decreased By ▼ -0.02 (-0.18%)
KEL 8.12 Increased By ▲ 0.10 (1.25%)
LOTCHEM 27.90 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
MLCF 87.41 Increased By ▲ 0.90 (1.04%)
OGDC 322.92 Increased By ▲ 2.96 (0.93%)
PAEL 40.09 Increased By ▲ 0.67 (1.7%)
PIBTL 17.02 Increased By ▲ 0.35 (2.1%)
PIOC 270.15 Increased By ▲ 4.09 (1.54%)
PPL 230.00 Increased By ▲ 1.82 (0.8%)
PRL 34.86 Increased By ▲ 0.18 (0.52%)
SNGP 99.25 Increased By ▲ 0.07 (0.07%)
SSGC 26.84 Increased By ▲ 0.24 (0.9%)
TELE 8.63 Increased By ▲ 0.35 (4.23%)
TPLP 8.64 Increased By ▲ 0.42 (5.11%)
TRG 69.90 Increased By ▲ 0.19 (0.27%)
UNITY 11.68 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق بدھ کے روز سمبڑیال کے علاقے مجرا کلاں میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں سیلابی پانی نے سات افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جن میں سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد شامل تھے۔

ترجمان وسیم نے میڈیا کو بتایا کہ ”ایک خاتون اور اس کے بچے کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ اُس کے شوہر اور دو دیگر بچے تاحال لاپتا ہیں۔“

انہوں نے مزید بتایا کہ ”ایک شخص جو اپنے رشتہ داروں کو لینے آیا تھا، اور ایک 65 سالہ مقامی بزرگ بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔“

ترجمان کے مطابق دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونے سے 50 سے زائد دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”تقریباً 110 پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم کچھ افراد اب بھی اپنے گھروں میں محصور ہیں۔“

یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے چند گھنٹے قبل ہی بتایا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے دو لاکھ دس ہزار افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے، جس میں پاک فوج، رینجرز، ریسکیو 1122، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) اور دیگر ادارے قریبی رابطہ کاری سے شریک ہیں۔ متاثرہ افراد کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کر کے وہاں طبی امداد، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل انعام ملک نے بتایا کہ این ڈی ایم اے نے 29 اگست سے 9 ستمبر کے دوران متوقع نئی بارشوں کے حوالے سے پیشگی الرٹ جاری کر دیا ہے، خاص طور پر اُن علاقوں میں جو پہلے سے زیرِ آب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، غیر سرکاری تنظیموں اور متعلقہ اداروں کو بروقت حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کر دی گئی ہے تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ آئندہ دنوں میں پنجند کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جو چھ سے سات لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتا ہے۔ اس سلسلے میں این ڈی ایم اے سندھ پی ڈی ایم اے سمیت متعلقہ اداروں کو بروقت پیشگی معلومات فراہم کر رہا ہے تاکہ حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ دریائے سندھ کے زیریں مقامات، خصوصاً کوٹری اور گڈو بیراج پر دباؤ کی سطح کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے، جبکہ دریائے ستلج کے کنارے واقع متاثرہ علاقوں سے انخلاء کا عمل پانی کی سطح میں اضافے کے ساتھ جاری رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ فوجی فارمیشنز آرمی چیف کی ہدایات کے تحت اپنے متعلقہ علاقوں میں انخلاء کے اقدامات کر رہی ہیں اور ان میں خاص طور پر کمزور اور متاثر پذیر آبادی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا میں مزید بارشوں کا امکان ہے، جس کے پیش نظر شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ این ڈی ایم اے کی ”ڈیزاسٹر الرٹ“ موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے بروقت معلومات حاصل کرتے رہیں۔

انہوں نے تصدیق کی کہ آئندہ 25 سے 45 روز کے دوران پیشگی الرٹس جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں خاص طور پر شمالی پنجاب، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے شامل ہیں، جہاں شدید بارشوں کے نتیجے میں مزید سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

سیلاب کے باعث ریلوے آپریشن متاثر

ملک میں جاری سیلابی صورتحال کے باعث پاکستان ریلوے نے ٹرین آپریشنز میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت کئی ٹرینیں منسوخ، محدود یا متبادل راستوں پر منتقل کر دی گئی ہیں تاکہ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ آفس لاہور کے مطابق سبک خرام ایکسپریس (103-اپ) اور اسلام آباد ایکسپریس (107-اپ) کو منسوخ کر دیا گیا ہے، اور ان کے مسافروں کو مکمل رقم واپس کی جائے گی۔ اسی طرح سیالکوٹ ایکسپریس (171-اپ/172-ڈاؤن) بھی منسوخ کر دی گئی ہے اور اس کے مسافروں کو بھی ریفنڈ دیا جا رہا ہے۔

کراچی سے روانہ ہونے والی گرین لائن (5-اپ) جو معمول کے مطابق مارگلہ تک جاتی ہے، اب صرف لاہور تک جائے گی۔ راولپنڈی اور مارگلہ کے لیے سفر کرنے والے مسافروں کو تیزگام (7-اپ) میں منتقل کیا جائے گا، جو اب شاہدرہ، سانگلہ ہل، شاہین آباد اور سرگودھا کے راستے راولپنڈی پہنچے گی۔

دیگر متاثرہ ٹرینوں میں تیزگام (8-ڈاؤن)، جعفر ایکسپریس (40-ڈاؤن)، عوام ایکسپریس (14-ڈاؤن)، گرین لائن (6-ڈاؤن) اور رحمان بابا ایکسپریس (48-ڈاؤن) شامل ہیں، جو اب لالہ موسیٰ، سرگودھا، شاہین آباد، فیصل آباد اور شورکوٹ کے راستے خانیوال تک چلیں گی۔

اسی طرح کراچی سے پشاور جانے والی خیبر میل (1-اپ) اب لاہور، شاہدرہ، شیخوپورہ، شاہین آباد، سرگودھا اور ملکوال کے راستے لالہ موسیٰ سے اپنے اصل ٹریک پر واپس آئے گی۔

مسافروں کی سہولت کے لیے پاکستان ریلوے نے لاہور سے ساہیوال کے راستے خانیوال تک دو خصوصی شٹل ٹرینیں بھی چلانے کا فیصلہ کیا ہے، جو تیزگام، جعفر ایکسپریس، عوام ایکسپریس اور گرین لائن کے متاثرہ مسافروں کو خانیوال پہنچائیں گی۔

لاہور سے ساہیوال کے راستے کراچی جانے والی ٹرینیں اپنے معمول کے شیڈول کے مطابق جنوبی بندرگاہی شہر کی جانب روانہ ہوں گی۔

Comments

Comments are closed.