ڈپٹی وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار ہفتہ کو دو روزہ سرکاری دورے (23 تا 24 اگست 2025) پر ڈھاکا پہنچ گئے ہیں۔ یہ گزشتہ 13 سالوں میں کسی پاکستانی وزیرِ خارجہ کا بنگلہ دیش کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔
دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش کی حکومت نے ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ کو دورے کی دعوت دی تھی۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ دورہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل ہے کیونکہ کوئی پاکستانی وزیرِ خارجہ تقریباً 13 سال کے وقفے کے بعد بنگلہ دیش کا دورہ کر رہا ہے۔
حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کا پُرتپاک استقبال بنگلہ دیش کے سیکریٹری خارجہ سفیر اسد عالم سیام، پاکستان میں تعینات بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر محمد اقبال خان، بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ہائی کمیشن کے دیگر حکام نے کیا۔
دفترِ خارجہ کی ترجمان کے مطابق اس دورے کے دوران ڈپٹی وزیراعظم بنگلہ دیش کی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے، جن میں چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس، خارجہ امور کے مشیر محمد توحید حسین اور تجارت کے مشیر ایس کے بشیر الدین شامل ہیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعاون کے تمام پہلوؤں کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلۂ خیال ہوگا۔
دورے کے دوران ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے بنگلہ دیش کی اہم سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی تفصیلی بات چیت کی۔
اپنے سیاسی روابط کے حصے کے طور پر سینیٹر اسحاق ڈار نے جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے وفد سے ملاقات کی، جس کی قیادت نائب امیر ڈاکٹر سید عبداللہ محمد طاہر کر رہے تھے۔ ملاقات میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کو مضبوط بنانے اور خطے کی تازہ ترین صورتحال پر بات ہوئی۔
ڈپٹی وزیراعظم نے جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں کے عزم و ہمت کو خراجِ تحسین پیش کیا جو مشکلات اور سختیوں کے باوجود ثابت قدم ہیں۔ انہوں نے نیشنل سٹیزنز پارٹی (این سی پی) کے وفد سے بھی ملاقات کی جس کی قیادت اختر حسین کر رہے تھے۔ اس موقع پر ڈپٹی وزیراعظم نے این سی پی کی قیادت کے اصلاحات اور سماجی انصاف کے وژن کو سراہا اور پاکستان و بنگلہ دیش کی نوجوان نسل کے درمیان بڑھتی ہوئی روابط کی ضرورت پر زور دیا۔
دوسری جانب وفد کے اراکین نے ڈپٹی وزیراعظم کو 2024 میں ملک گیر سیاسی سرگرمیوں کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کیا۔ دونوں جانب سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ثقافتی تبادلوں کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.