سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی کنسولیڈیٹڈ آڈٹ رپورٹ 25-2024 کو یکسر مسترد کرتے ہوئے دو ٹوک وضاحت کی ہے کہ ایس ای سی پی کو قانونی طور پر مکمل اختیار اور مینڈیٹ حاصل ہے کہ وہ بجٹ اور مالیاتی فیصلوں کی منظوری ایس ای سی پی پالیسی بورڈ سے لے۔
بزنس ریکارڈرٓ بے پایا کہ نامعلوم عناصر کی جانب سے ایس ای سی پی کے خلاف بدنیتی پر مبنی مہم چلائی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں وہی پرانے سوالات اور اعتراضات دہرائے گئے ہیں جنہیں آڈیٹر جنرل نے ماضی میں پہلے ہی نمٹا دیا تھا۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ مالیاتی امور کی منظوری پالیسی بورڈ سے لینا کسی طور غیرقانونی نہیں، کیونکہ یہ بورڈ وزارتِ خزانہ، وزارتِ تجارت، وزارتِ قانون کے سیکریٹریز، اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر، چیئرمین ایس ای سی پی اور وفاقی حکومت کی جانب سے نامزد چھ ممتاز نجی شعبے کے ماہرین پر مشتمل ہے، جو ایس ای سی پی کے تمام اقدامات کی مضبوط نگرانی کو یقینی بناتے ہیں۔
ایس ای سی پی نے رپورٹ میں درج ان مشاہدات کو سختی سے مسترد کیا ہے جن میں کہا گیا کہ ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ غیر قانونی طور پر کیا گیا اور آمدنی و سرپلس رقم فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع نہیں کرائی گئی۔ ادارے نے واضح کیا کہ تمام فیصلے ایس ای سی پی ایکٹ 1997 کے تحت اور مجاز اتھارٹی کی منظوری سے کیے گئے۔
ایس ای سی پی نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ میڈیا نے معاملے کی غیر متوازن رپورٹنگ کی، جس میں اعتراضات تو شائع کیے گئے مگر رپورٹ میں درج ایس ای سی پی کے جوابات شامل نہیں کیے گئے۔ بعض حلقوں نے یہ بھی کہا کہ ایس ای سی پی کو ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (ڈی اے سی) میں معاملہ رکھنے کے لیے بلایا گیا مگر اس نے جواب نہیں دیا، جو بالکل غلط ہے کیونکہ ایسا کوئی دعوت نامہ موصول ہی نہیں ہوا۔
ایس ای سی پی کے مطابق یہ رپورٹ فی الحال صرف مشاہدات پر مبنی ہے، جسے ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (ڈی اے سی) کے اجلاس میں زیر بحث لایا جائے گا، جہاں آڈیٹر جنرل اور ایس ای سی پی دونوں کا مؤقف سنا جائے گا۔
ماضی میں بھی اسی نوعیت کے اعتراضات اٹھائے گئے تھے جنہیں پہلے ڈی اے سی اور پھر جولائی 2025 میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے ایس ای سی پی کے قانونی مؤقف کے حق میں فیصلہ دے کر ختم کر دیا تھا۔ یہ افسوسناک ہے کہ وزارت خزانہ یا قانون سے رائے لیے بغیر دوبارہ انہی اعتراضات کو اٹھایا گیا۔ تاہم ایس ای سی پی پر اعتماد ہے کہ معاملہ موجودہ مثال کی بنیاد پر ڈی اے سی کے مرحلے پر ہی حل ہو جائے گا۔
ایس ای سی پی ایک قانونی ادارہ ہے جسے انتظامی، مالی اور عملی آزادی حاصل ہے جیسا کہ ایس ای سی پی ایکٹ 1997 میں واضح طور پر درج ہے، اور یہ آزادی بین الاقوامی اداروں جیسے آئی او ایس سی اوکے مقررہ معیارات کے مطابق ہے۔
ایس ای سی پی ایکٹ کے مطابق بجٹ اور مالیاتی فیصلوں کی حتمی منظوری ایس ای سی پی پالیسی بورڈ سے لی جاتی ہے، جس میں سرکاری سیکریٹریز، اسٹیٹ بینک کا ڈپٹی گورنر، چیئرمین ایس ای سی پی اور نجی شعبے کے چھ ماہرین شامل ہوتے ہیں۔
ادارے نے کہا کہ اپنی حساس اور تکنیکی نوعیت کے کام کے باعث ایس ای سی پی کو اعلیٰ مہارت اور دیانت داری رکھنے والے پروفیشنلز درکار ہوتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ملازمین کی تنخواہوں کے پیکجز وقتاً فوقتاً نظرثانی کے بعد پالیسی بورڈ کی منظوری سے طے کیے جاتے ہیں، جو مارکیٹ سروے اور ہم پلہ اداروں کے تقابلی تجزیے پر مبنی ہوتے ہیں۔
ایس ای سی پی نے کہا کہ وہ شفافیت اور کھلے رابطے پر یقین رکھتا ہے اور اسی پالیسی پر عمل پیرا رہے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.