بھارت کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اعلان کیا ہے کہ بھارت فرانس کی کمپنی کے ساتھ مل کر ملک میں فائٹر جیٹ کے انجن تیار کرنے پر کام کررہا ہے۔
راجناتھ سنگھ نے مئی میں ففتھ جنریشن کے ایڈوانسڈ میڈیم کامبیٹ ایئرکرافٹ کے پروٹوٹائپ کی منظوری دی تھی جسے انہوں نے بھارت کی مقامی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا تھا۔
نئی دہلی میں ایک کانفرنس کے دوران وزیر دفاع نے اس منصوبے کی مزید تفصیلات بتائیں اور کہا کہ ہم بھارت میں ہی ہوائی جہاز کے انجن تیار کرنے کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں اور اس کے لیے ایک فرانسیسی کمپنی کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم بھارت میں انجن کی پیداوار شروع کرنے کے لیے ایک فرانسیسی کمپنی کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔
اگرچہ سنگھ نے کمپنی کا نام نہیں بتایا تاہم بھارتی میڈیا میں بڑے پیمانے پر رپورٹ کیا گیا ہے کہ یہ کمپنی سیفران ہے جو دہائیوں سے بھارت میں ایوی ایشن اور دفاعی شعبوں میں کام کررہی ہے۔ فوری تصدیق ابھی نہیں ہوئی۔
دنیا کے سب سے بڑے ہتھیار درآمد کنندگان میں سے ایک بھارت نے اپنی افواج کی جدید کاری کو اولین ترجیح بنایا ہوا ہے اور مقامی ہتھیار سازی کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
حالیہ برسوں میں بھارت نے مغربی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کو بھی مضبوط کیا ہے، جس میں امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ کوآڈ اتحاد بھی شامل ہے۔
بھارت نے اپریل میں فرانس کی ڈاسو ایوی ایشن سے 26 رفال فائٹر جیٹس خریدنے کے لیے اربوں ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ جیٹس پہلے سے خریدے گئے 36 رفال فائٹر جیٹس میں شامل ہوں گی اور روسی میگ-29 کے طیاروں کی جگہ لیں گی۔
راجناتھ سنگھ نے 2033 تک مقامی ہتھیار سازی کو فروغ دینے کے لیے کم از کم 100 ارب ڈالر کے نئے فوجی سازوسامان کے معاہدوں کا بھی وعدہ کیا ہے۔


Comments
Comments are closed.