امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الاسکا میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ملاقات کے دوران ایک خاص خط ان کے حوالے کیا جو امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے لکھا تھا۔ اس خط میں پیوٹن سے بچوں کے نام پر امن قائم کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ خاتونِ اول کے دفتر نے فاکس نیوز کی خبر کو ایک دن بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا۔
فاکس نیوز کے مطابق ٹرمپ نے یہ خط پیوٹن کو اجلاس کے دوران سب کے سامنے دیا اور روسی صدر نے فوری طور پر اس کا مطالعہ کیا۔ خط میں لکھا تھا کہ دنیا کے بعض بچے ہنسی تک سے محروم ہیں، اور پیوٹن اپنی ایک فیصلہ کن کارروائی سے ان کی معصوم مسکراہٹ بحال کر سکتے ہیں۔ میلانیا نے مزید لکھا کہ ایسا قدم صرف روس کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے خدمت ہوگا۔
امریکی صدر نے جولائی میں کہا تھا کہ ان کی اہلیہ نے پیوٹن کے بارے میں ان کی سوچ بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران یوکرین جنگ 24 گھنٹوں میں ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور دوسری مدت کے آغاز میں پیوٹن کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش بھی کی۔
الاسکا ملاقات سے قبل ٹرمپ نے روس کو جنگ بندی نہ ماننے پر سخت نتائج کی دھمکی دی تھی مگر اجلاس کے بعد انہوں نے مؤقف بدلتے ہوئے کہا کہ جنگ کا حل براہِ راست امن معاہدے میں ہے۔


Comments
Comments are closed.