حکومت نے ملک میں چینی کی طلب پوری کرنے اور مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے 85 ہزار میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزارتِ غذائی تحفظ کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، چینی کی درآمد کے لیے سوکار کے ذریعے لیٹرز آف کریڈٹ (ایل سیز) کھول دیے گئے ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے اور قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام ایل سیز متعلقہ بینکوں کے ذریعے باضابطہ طور پر کھول دیے گئے ہیں اور سوکار کے ساتھ طے شدہ تجارتی معاہدے کے تحت درآمدی چینی مرحلہ وار پاکستان پہنچے گی۔ پہلی کھیپ آئندہ چند ہفتوں میں بندرگاہ پر پہنچنے کی توقع ہے۔
حکومت نے واضح کیا کہ یہ اقدام ملکی ذخائر میں اضافہ کرنے، کسی ممکنہ قلت سے بچنے اور مستقبل میں قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
منصوبے کے تحت درآمدی چینی اوپن مارکیٹ میں عوام کو رعایتی نرخوں پر فراہم کی جائے گی۔ 85 ہزار میٹرک ٹن چینی کی درآمد سے مارکیٹ میں سپلائی کا تسلسل برقرار رہے گا۔
منصوبے کے تحت درآمدی چینی اوپن مارکیٹ میں عوام کو رعایتی نرخوں پر فراہم کی جائے گی جس سے سپلائی کا تسلسل برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
مزید برآں، اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ درآمدی چینی بین الاقوامی معیار پر پوری اترے اور مقررہ مدت کے اندر پاکستان پہنچ جائے۔


Comments
Comments are closed.