ایف آئی اے نے کوئٹہ میں مزید تین غیر قانونی کرنسی ڈیلرز گرفتار کرلیے
- ملزمان غیر ملکی کرنسی رکھنے کی وضاحت دینے میں ناکام
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ سے حوالہ/ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی کے تبادلے میں مبینہ طور پر ملوث مزید تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر قانونی کرنسی ڈیلرز کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب چند روز قبل ایک پاکستانی عدالت نے غیر قانونی کرنسی ڈیلرز کو غیر قانونی غیر ملکی زرمبادلہ کے کاروبار میں ملوث ہونے پر پانچ، پانچ سال قید اور فی کس 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
گزشتہ دو ہفتوں کے دوران، غیر قانونی کرنسی ڈیلرز اور اسمگلرز کے خلاف شروع کی گئی کارروائی میں، ایف آئی اے سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے کم از کم آٹھ غیر قانونی کرنسی ڈیلرز کو گرفتار کر چکے ہیں۔
یہ کریک ڈاؤن پاکستانی روپے کو امریکی ڈالر اور دیگر بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم کرنے کے لیے تیز کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے نے کہا کہ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل رفعت مختار راجہ کی ہدایت پر غیر قانونی کرنسی ڈیلرز کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔
بیان کے مطابق، مشتبہ افراد عبدالباری، ثناء اللہ اور اسداللہ کو کوئٹہ کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا۔
ایجنسی نے کہا کہ ملزمان کے قبضے سے مجموعی طور پر 27 لاکھ ایرانی ریال، 3,050 افغان کرنسی، موبائل فونز اور حوالہ/ہنڈی (کرنسی اسمگلنگ) کے دیگر شواہد برآمد ہوئے۔
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان غیر ملکی کرنسی کی ملکیت کے حوالے سے حکام کو تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے، جس کے بعد انہیں حراست میں لے کر تحقیقات شروع کر دی گئیں۔
8 اگست کو سکھر کی فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے تین غیر قانونی کرنسی ڈیلرز، قمر شہزاد، محمد ذیشان اور زبیر اصغر کو پانچ سال قید اور فی کس 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ ان کے خلاف مقدمہ ایف آئی اے کومپوزٹ سرکل سکھر نے درج کیا تھا۔
کریک ڈاؤن کے نتیجے میں حالیہ دنوں میں مقامی کرنسی امریکی ڈالر اور دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں مضبوط ہوئی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے اعداد و شمار کے مطابق، 23 جولائی 2025 سے شروع ہونے والے کریک ڈاؤن کے بعد سے روپے نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں مجموعی طور پر 2.4 روپے کی قدر بحال کی ہے، جو 8 اگست کو انٹر بینک مارکیٹ میں 282.5 روپے فی ڈالر پر بند ہوا، جبکہ 22 جولائی 2025 کو یہ 284.9 روپے فی ڈالر تھا۔
اس سے قبل، یکم جون 2025 سے 22 جولائی 2025 تک روپے نے تقریباً 3 روپے فی ڈالر قدر کھوئی تھی اور 284.9 روپے فی ڈالر تک گر گیا تھا۔
23 جولائی کو بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) کے چیئرمین ملک محمد بوستان نے کہا کہ وہ کرنسی ڈیلرز کے ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد میں انٹر سروسز انٹیلیجنس آف پاکستان (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر انٹیلیجنس (ڈی جی سی) سے ملے۔
ای سی اے پی کے بیان کے مطابق، ملک محمد بوستان نے ڈی جی سی کو ایران اور افغانستان میں کرنسی اسمگلنگ سے آگاہ کیا۔ بیان میں ان کے حوالے سے کہا گیا کہ بلیک مارکیٹ کے زیادہ ریٹ کی وجہ سے ڈالر کی سپلائی روز بروز قانونی کرنسی ڈیلرز کے لیے کم ہو رہی ہے۔
ای سی اے پی کے مطابق، اس پر جنرل فیصل نصیر (ڈی جی سی) نے فوراً قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کرنسی اسمگلرز کے خلاف کارروائی اور ان کی گرفتاری کا حکم دیا۔


Comments
Comments are closed.