چینی کی قیمتیں 200 روپے فی کلو کے قریب پہنچنے کے بعد، قومی اسمبلی کی ایک خصوصی کمیٹی اس بات کا جائزہ لینے جا رہی ہے کہ پالیسی میں خلا، برآمدی مراعات اور صنعت کے حربوں نے ملز مالکان کو تقریباً 300 ارب روپے کے غیر معمولی منافع کیسے دلائے — اور کیا ایک نیا ٹیکس لگا کر اس منافع کا کچھ حصہ صارفین کو ریلیف دینے کے لیے واپس لیا جا سکتا ہے۔
یہ کثیر الجماعتی کمیٹی، جس کی سربراہی پی ٹی آئی کے عاطف خان کر رہے ہیں، پیر (آج) کو اس بات کی تحقیقات کے لیے اجلاس کرے گی کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کے پیچھے خفیہ فائدہ اٹھانے والے کون ہیں۔ یہ انکوائری کئی برسوں سے جاری قیمتوں کے چکر، برآمدات اور درآمدات کے اتار چڑھاؤ اور حکومتی ڈیریگولیشن کے کردار کا جائزہ لے گی۔
اس احتسابی دباؤ کا آغاز اس وقت ہوا جب آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں تصدیق کی کہ شوگر مل مالکان نے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور برآمدی پالیسیوں سے بڑے پیمانے پر فائدہ اٹھایا۔ پارلیمنٹ میں ناقدین نے اسے مزید سخت الفاظ میں بیان کرتے ہوئے شوگر انڈسٹری کو مافیا قرار دیا، جو پالیسی سازی پر غیر معمولی اثر رکھتی ہے۔
وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین نے حال ہی میں اس شعبے کی مکمل ڈیریگولیشن کا اعلان کیا — جس کے تحت قیمتوں، خریداری اور سپلائی پر حکومتی کنٹرول ختم کر دیا گیا۔ تاہم، انہوں نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کا وعدہ کیا اور کچھ مل مالکان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالے، مگر اس کے باوجود ریٹیل قیمتیں طے شدہ حد سے اوپر چلی گئیں۔
15 جولائی 2025 کو حکومت اور پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) کے درمیان ہونے والے معاہدے میں زیادہ سے زیادہ ایکس مل قیمت 165 روپے فی کلو مقرر کی گئی تھی، جس میں اکتوبر کے وسط تک ہر ماہ 2 روپے اضافے کی اجازت دی گئی۔ اندرونی ذرائع کے مطابق یہ 2 روپے کا اضافہ 25 فیصد شرح سود کی بنیاد پر طے ہوا تھا جو اب 11 فیصد رہ گئی ہے، اس لیے طے شدہ کاسٹ اور قیمتوں میں اضافے کا جواز ختم ہو چکا ہے۔
وزارتِ خزانہ اور وزارتِ تجارت نے مبینہ طور پر قیمتوں کے خدشات کے باعث چینی کی برآمد کی مخالفت کی، مگر بعض مل گروپس نے ذخائر اس وقت تک روکے رکھے جب تک برآمد کی اجازت نہ ملی، تاکہ عالمی منڈی میں زیادہ قیمت (مقامی نرخ سے 30 سے 40 روپے فی کلو زائد) کا فائدہ اٹھایا جا سکے — اور برآمدات پر سیلز ٹیکس سے بھی بچا جا سکے۔
حکومت اب اکتوبر تک قلت دور کرنے کے لیے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے 1 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ اس وقت سامنے آیا جب پی ایس ایم اے نے قیمتیں 140 روپے فی کلو سے اوپر نہ لے جانے کا وعدہ توڑا۔
عاطف خان کی سربراہی میں کمیٹی اب بینکوں پر لگائے گئے ٹیکس کی طرز پر ونڈ فال ٹیکس لگانے پر غور کر رہی ہے، تاکہ مل مالکان کے غیر معمولی منافع کا کچھ حصہ صارفین کو سبسڈی دینے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ یہ اقدام اس شعبے کے خلاف پہلا سنجیدہ مالی دباؤ ہو سکتا ہے، جس پر طویل عرصے سے مارکیٹ اور پالیسی کو اپنے حق میں موڑنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.