معیشت آخرکار ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے — کم از کم کاغذی طور پر۔ اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2026 کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو 3.5 سے 4.25 فیصد کے درمیان متوقع بتائی ہے، جہاں بڑے صنعتی سیکٹر (ایل ایس ایم) میں بحالی کی علامات نظر آ رہی ہیں، ترسیلات زر 40 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی پیشگوئی ہے، اور زرمبادلہ ذخائر آئندہ سال جون تک 17.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ حتیٰ کہ وہ کریڈٹ ایجنسیز بھی جو پاکستان کی بیرونی مالی حالت پر طویل عرصے سے شکوک کا اظہار کرتی رہی ہیں، اب ملک کی ریٹنگ بہتر کر چکی ہیں۔
اگرچہ معیشت کی بہتری کا مجموعی منظرنامہ قابلِ تعریف ہے، مگر ایک مسئلہ جو ابھی بھی گہری نگرانی کا متقاضی ہے وہ مہنگائی ہے۔ اور اس بار صرف آزاد ماہرین یا مارکیٹ تجزیہ کار ہی نہیں بلکہ خود مرکزی بینک نے بھی تسلیم کیا ہے کہ مہنگائی عارضی طور پر اپنے 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے تجاوز کر سکتی ہے، جس کی وجہ بنیادی دباؤ ہے۔ یہ اعتراف، جو پہلے کی بریفنگز میں موجود نہیں تھا، حالیہ انکشافات کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے جن میں اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ مارکیٹ میں کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔
اب یہ عوامی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ مرکزی بینک نے جون 2024 سے اپریل 2025 کے درمیان مقامی زرمبادلہ مارکیٹ سے 7.2 ارب ڈالر سے زائد کی خریداری کی۔ ان میں سے ایک ارب ڈالر سے کم ذخائر میں شامل کیے گئے جبکہ زیادہ تر رقم بیرونی قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہوئی۔ تاہم، ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ ڈالر کس طرح خریدے گئے — اگر ان کی خریداری کے لیے روپے نظام میں ڈالے گئے اور وہ روپے معیشت سے واپس نہیں لیے گئے تو اس عمل نے پیسے کی فراہمی کو مؤثر طریقے سے بڑھا دیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پالیسی ریٹ میں حالیہ مہینوں میں 1,100 بیس پوائنٹس کی کمی کے باوجود بنیادی مہنگائی برقرار ہے، اسی لیے اسٹیٹ بینک نے جو طویل عرصے تک مہنگائی میں کمی کے آثار ظاہر کرتا رہا، اب توقع ظاہر کی ہے کہ قیمتوں پر دباؤ اپنی آرام دہ حد سے تجاوز کرسکتا ہے،تاہم ایم پی سی کی بریفنگ میں اس بات کا ذکر نہیں تھا کہ آیا مرکزی بینک کی زرمبادلہ مداخلت کو اوپن مارکیٹ آپریشنز یا دیگر لیکویڈیٹی جذب کرنے والے اقدامات سے متوازن کیا گیا ہے یا نہیں، اور یہ کمی خاص طور پر معنی رکھتی ہے۔
مہنگائی کا انحصار توقعات کے ساتھ ساتھ اعداد و شمار پر بھی ہوتا ہے۔ جب مارکیٹ یہ دیکھتی ہے کہ مرکزی بینک ڈالر خرید رہا ہے اور زرمبادلہ ذخائر بڑھا رہا ہے، تو اسے یہ بھی جاننا ضروری ہوتا ہے کہ ان خریداریوں سے مہنگائی کو بڑھنے سے روکنے کے لیے کون سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اگر واضح طور پر روپے کی بازیابی (اسٹریلائزیشن) نہ کی جائے تو عوام یہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ ذخائر کی بحالی پیسے کی فراہمی میں اضافے کے باعث ہو رہی ہے، جس کا بالآخر اثر روپے کی خریداری کی قوت پر پڑتا ہے۔
گورنر کی جانب سے مضبوط معاشی بنیادوں اور بہتر مارکیٹ جذبات پر زور بالکل بجا ہے۔ درمیانے درجے کی اشیاء اور مشینری کی درآمدات میں اضافہ سرمایہ کاری کی بحالی کی واضح علامت ہے۔ اب ذخائر ملک کی سالانہ خالص قرض ادائیگیوں سے بڑھ چکے ہیں، جو ماضی کے مقابلے میں خوش آئند پیش رفت ہے۔ تاہم، یہ ترقی تبھی قابلِ اعتبار ہوگی جب اس سے جڑے خطرات کو تسلیم کیا جائے اور شفافیت کے ساتھ ان کا مؤثر حل تلاش کیا جائے۔
سال 2022-24 کی مہنگائی کا صدمہ ابھی دور کی بات نہیں۔ صرف دو سال پہلے ہی عمومی مہنگائی 30 فیصد سے تجاوز کر گئی تھی، جس نے گھریلو بجٹس کو شدید متاثر کیا اور مانیٹری پالیسی کو ہنگامی صورتحال میں پہنچا دیا۔ کوئی بھی پالیسی، چاہے وہ کتنی ہی نیک نیتی پر مبنی ہو، جو اس زخم کو دوبارہ کھولنے کا خطرہ رکھتی ہو، اسے کھل کر زیرِ بحث لانا چاہیے، خاموشی سے تسلیم کرنا نہیں۔
امید اور خود اعتمادی کے درمیان ایک باریک حد ہوتی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے بالکل درست طور پر زراعت، بیرونی تجارتی توازن، اور ترسیلات زر میں خطرات کی نشاندہی کی ہے۔ لیکن اسے اپنی حالیہ کارروائیوں، خاص طور پر وہ جو مہنگائی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، کے بارے میں بھی شفاف ہونا چاہیے۔ اگر زرمبادلہ کی خریداریوں کو اسٹریلائز کیا گیا ہے تو عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ کیسے اور کس حد تک۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو مانیٹری پالیسی کے ڈھانچے میں اس خطرے کو واضح طور پر شامل کرنا ضروری ہے۔
بحالی کے مثبت اشاروں کو خوش آمدید کہنا ممکن ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کے اخراجات کی مکمل وضاحت کا مطالبہ بھی ضروری ہے۔ درحقیقت، یہی شفافیت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ آج کا حوصلہ کل کی پالیسی کی غلطی نہ بنے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.