سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے درجنوں تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 50 فیصد تک کے بڑھائے گئے درآمدی ٹیرف جمعرات کو نافذ ہو گئے، جن کا مقصد امریکی تجارتی خسارے کو کم کرنا ہے۔
امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن ایجنسی نے یہ ٹیرف جمعرات کی صبح 12 بجکر 1 منٹ سے وصول کرنا شروع کر دیے۔ ان میں ان اشیاء پر بھی اضافہ شامل ہے جو برازیل (50 فیصد)، سوئٹزرلینڈ (39 فیصد)، کینیڈا (35 فیصد) اور بھارت (25 فیصد) سے درآمد کی جاتی ہیں۔
بھارت پر الگ سے 25 فیصد اضافی ٹیرف بھی عائد کیا گیا ہے جو آئندہ 21 دنوں میں روسی تیل کی خریداری کے سبب نافذ ہوگا۔
امریکا کے آٹھ بڑے تجارتی شراکت داروں، جن میں یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا شامل ہیں، نے تجارتی مراعات پر معاہدے کر کے ٹیرف کی شرح 15 فیصد کروائی ہے، جبکہ برطانیہ نے 10 فیصد ٹیرف حاصل کیا۔
کچھ ممالک جیسے ویتنام، انڈونیشیا، پاکستان اور فلپائن کو 19 یا 20 فیصد ٹیرف کی رعایت ملی ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا کہ نئے ٹیرف سے ”اربوں ڈالر“ کی آمدنی ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ صرف ”ریڈیکل لیفٹ عدالتیں“ ہی امریکا کو پیچھے لے جا سکتی ہیں۔
ٹریژری سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق، نئے ٹیرف سے سالانہ 300 ارب ڈالر سے زائد کی آمدنی متوقع ہے، جو امریکی تاریخ میں بلند ترین سطح ہے۔
امریکی وزارت تجارت کے مطابق، جون سے اشیائے ضروریہ اور گھریلو آلات کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ ایشیائی مارکیٹس نے فی الحال مثبت ردِعمل دیا ہے، لیکن ان اقدامات سے طویل مدتی سپلائی چین میں خلل اور مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔


Comments
Comments are closed.