بھارت باوقار جی-20 گروپ کا رکن ہے، اگرچہ 2023 میں افریقی یونین بھی بطور 21ویں رکن اس میں شامل ہو گئی اور یہ مجموعی طور پر دنیا کی تقریباً 85 فیصد مجموعی پیداوار، 75 فیصد بین الاقوامی تجارت، 56 فیصد عالمی آبادی اور 60 فیصد زمین کے رقبے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
روس کی رکنیت مارچ 2022 میں معطل کر دی گئی جس کی تجویز امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین پر حملے کے بعد دی تھی تاہم چین نے اس اقدام کی مخالفت کی۔ چین اپنی رکنیت برقرار رکھے ہوئے ہے، اگرچہ صدر شی جن پنگ نے 2023 میں نئی دہلی میں ہونے والی جی-20 سربراہ کانفرنس میں شرکت نہیں کی، لیکن انہوں نے 2024 میں برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں منعقدہ سربراہ اجلاس میں شرکت کی۔ جی-20 عالمی معیشت سے متعلق مختلف موضوعات پر غور کرتا ہے جن میں بین الاقوامی مالیاتی استحکام، ماحولیاتی تبدیلیوں کی روک تھام اور پائیدار ترقی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ بھارت 2009 میں قائم ہونے والے برکس (برازیل، روس، بھارت، چین) کا بانی رکن ہے جس میں ایک سال بعد جنوبی افریقہ بھی شامل ہوگیا اور اب یہ اتحاد ایک طاقتور بلاک کی شکل اختیار کرچکا ہے جس میں رکنیت کے لیے کئی ممالک نے درخواستیں دی ہیں۔ پاکستان بھی ان امیدواروں میں شامل ہے۔برکس کی اہمیت میں نمایاں اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب امریکہ کی قیادت میں مغربی ممالک نے تیزی سے ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا جبکہ چین اور روس معاشی اور عسکری طاقت میں امریکہ کے مقابلے میں کھڑے ہورہے ہیں۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے پابندیوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے برکس کی اہمیت مزید مستحکم ہوئی۔ اس اتحاد میں ایک متفقہ رائے یہ سامنے آئی ہے کہ عالمی تجارت میں ڈالر کی بالادستی کو کمزور کیا جائے اور مغرب کے زیرِ کنٹرول سوئفٹ نظام سے ہٹ کر بین الاقوامی تجارت کی ادائیگیوں کے لیے متبادل راستہ تلاش کیا جائے۔
پاکستان کو آئندہ سال برکس کی رکنیت ملنے کی توقع ہے، اگرچہ بھارت اس کی مخالفت کررہا ہے، تاہم پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اس کی ممکنہ شمولیت کی ایک بڑی وجہ سمجھی جارہی ہے جو نہ صرف جون میں اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے دوران ایران کی عوامی حمایت سے ظاہر ہوئی بلکہ مئی 2025 میں بھارت کے خلاف پاکستان کی شاندار عسکری فتح بھی اس کا مظہر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان چین کا دیرینہ اور قابلِ اعتماد اتحادی بھی ہے جو اس کی رکنیت کے حق میں ایک اہم عنصر ہے۔
پاکستان کا اثرورسوخ اقتصادی طاقت پر مبنی نہیں ہے جیسا کہ بھارت کے معاملے میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے جس کے زرمبادلہ ذخائر اگست 2024 میں 670 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں، یہ خطیر ذخائر بھارت کو مغربی دنیا کی اقتصادی اور خارجہ پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کی بھرپور صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ اس اثر و رسوخ کو بھارت کی 2023-24 میں 8 فیصد سے زائد جی ڈی پی نمو، تقریباً 10 فیصد کی شرح سے ترقی کرتا ہوا صنعتی شعبہ اور ایک فعال بینکاری نظام سہارا دیتا ہے، جہاں ریزرو بینک آف انڈیا بیرونی دباؤ سے آزاد ہو کر ڈسکاؤنٹ ریٹ جیسے فیصلے کرتا ہے۔
اس کے برعکس پاکستان کی معیشت آج تک نازک صورتحال سے دوچار ہے۔ ہمارا موجودہ اخراجاتی حجم بے حد زیادہ ہے اور قرض پر مارک اپ موجودہ اخراجات کے کل حجم کا بڑا حصہ بن چکا ہے (جبکہ موجودہ حکومت مجموعی اخراجات کو قابو میں رکھنے کے لیے ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی پر انحصار کررہی ہے)۔ملک کا صنعتی ڈھانچہ جوں کا توں برقرار ہے اور زیادہ تر صارفین پر مبنی ہے جبکہ برآمدات کا حجم زیادہ ویلیو ایڈڈ پیداوار کے بجائے عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پر منحصر ہےاور سب سے اہم بات یہ کہ 2019 سے اب تک انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے نہایت سخت شرائط کے ساتھ پروگرام قرضے دیے ہیں جن کی وجہ سے اقتصادی ٹیم کی مالیاتی یا مانیٹری پالیسیوں میں ترمیم کر کے بڑھتی ہوئی غربت کی سطح (جو عالمی بینک کے مطابق 44.2 فیصد تک پہنچ چکی ہے) میں کمی لانے کی صلاحیت ختم ہوگئی ہے۔
بعض ماہرین کا مؤقف ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان اثر و رسوخ کا فرق جغرافیائی تفاوت پر مبنی ہے۔ پاکستان کا رقبہ بھارت کے مقابلے میں صرف ایک چوتھائی ہے جبکہ آبادی بھی صرف 17 فیصد کے لگ بھگ ہے اور یہی عوامل بھارت کی پاکستان سے دس گنا بڑی جی ڈی پی کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔
تاہم پاکستان کی مسلسل خراب معاشی کارکردگی کی اصل ذمہ داری اُن طاقتور اور بااثر طبقات پر عائد کی جاتی ہے جو ہر سال قومی بجٹ کا بڑا حصہ اپنے لیے مخصوص کر لیتے ہیں اور مالیاتی و مانیٹری پالیسیوں پر بھی غیر ضروری اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔ آئی ایم ایف نے اپنی دستاویزات میں خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات ملک میں سماجی بے چینی کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
چنانچہ جہاں بھارت کی بلند شرحِ نمو کو مستقل اور مربوط اقتصادی پالیسیوں اور سب سے بڑھ کر سیاسی استحکام سے منسوب کیا جاتا ہے، وہیں پاکستان اب بھی بار بار آئی ایم ایف پر انحصار کر رہا ہے تاکہ وہ اسے معاشی اُتار چڑھاؤ کے چکر سے نکال سکے۔ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے چوبیسویں پروگرام میں ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بجائے اس کے کہ آئی ایم ایف معیشت پر اپنی گرفت نرم کرے، اس نے اسے اس حد تک سخت کر دیا ہے کہ اب تین دوست ممالک بھی پاکستان کو کوئی قرض فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں جب تک کہ ملک ایک سخت فنڈ مانیٹرڈ پروگرام کا حصہ نہ ہو۔
لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت مقامی سطح پر معاشی اصلاحات کا آغاز کرے، جن کی بنیاد ان بااثر طبقوں کی رضاکارانہ قربانی پر ہو، جو ہر سال اخراجات اور آمدنی کے لحاظ سے بجٹ کے بڑے حصے کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، سیاسی استحکام اور داخلی سلامتی کو بھی یقینی بنانا ہوگا، کیونکہ یہی عوامل ملک کی معیشت کو مؤثر اور بامعنی انداز میں ترقی دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔صرف اسی صورت میں ہم اقتصادی میدان میں بھارت کا مؤثر مقابلہ کر سکیں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.